.

ادلب: شامی حکومتی فورسز پر داعش تنظیم کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش نے شام میں اپنی صفوں کو ایک بار پھر ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔ اس مرتبہ تنظیم کی توجہ ملک کے شمالی حصے پر مرکوز ہے۔

تنطیم نے ملک کے شمال مغربی میں ادلب صوبے میں ایک حملہ کر کے شامی حکومتی فورسز اور اس کے ہمنوا مسلح گروپوں کے کم از کم 6 ارکان کو ہلاک کر دیا۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے جمعے کی شام بتایا تھا کہ ادلب کے جنوب میں معرہ النعمان کے دیہی علاقے میں دراندازی کرنے والے 4 ازبک شدت پسند مارے گئے۔ علاقے میں شامی حکومتی فورسز کے ٹھکانے موجود ہیں۔

ایک ہفتہ قبل داعش تنظیم نے ملک کے مشرقی صوبے دیر الزور میں ایک حملہ کر کے شامی حکومتی فورسز کے 7 ارکان کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

اسی طرح رواں سال فروری میں اسی صوبے میں گھات لگا کر حکومتی فورسز کے وفادار 26 مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 2019ء میں عسکری طور پر ہزیمت سے دوچار ہونے کے باوجود داعش کے غیر فعال گروہ اب سرگرم ہو کر خون ریز حملے کر رہے ہیں۔

دیر الزور میں تباہی کے مناظر۔
دیر الزور میں تباہی کے مناظر۔

المرصد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مارچ 2019ء سے اب تک دیہی علاقوں میں حملوں اور لڑائیوں میں شامی فوج اور اس کے ہمنوا گروپوں کے 1509 سے زیادہ ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران میں داعش تنظیم کے 930 سے زیادہ جنگجو مارے گئے۔

ان کے علاوہ ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں کے 153 غیر شامی ارکان بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ تمام افراد فرات کے مغرب میں اور دیر الزور، الرقہ، حمص، السویداء، حماہ اور حلب کے دیہی علاقوں میں داعش تنظیم کی جانب سے دھماکوں اور گھات لگانے کی کارروائیوں میں مارے گئے۔