.

سعودی عرب کے ادارے مختلف ثقافتوں کےدرمیان رابطوں اور ڈائیلاگ کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مختلف ادارے اور وزارتیں دوسرے ممالک اور اقوام کی ثقافتوں کے درمیان رابطوں اور ڈائیلاگ کے لیے سرگرم ہیں۔

اسی سلسلے میں دسمبر 2019 سعودی عرب کے سابق وزیر انصاف اور رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظبی میں منعقدہ ایک کلچرل فورم میں شرکت کی۔ اس فورم میں امارات کے وزیر "رواداری" شیخ نہیان بن مبارک النہیان ،امن کے فروغ کے فورم کے صدر شیخ عبداللہ بن بیہ سمیت کئی دوسری شخصیات موجود تھیں۔ اس فورم پر ڈاکٹر العیسیٰ کوثقافتی رابطوں کے لیے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دینے اور امن و رواداری کی اقدار کو فروغ کی مساعی کے اعتراف میں "الحسن بن علی بین الاقوامی ایوارڈ" سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر العیسیٰ کو یہ ایوارڈ ان کی ثقافتی رابطہ کاری کے دوران مختلف روحانی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں، مواصلاتی دوروں کے ذریعے مذہبی، سماجی اور دیگر طبقات کی قیادت سے ملاقاتوںِ، ثقافت کے فروغ کے مذہبی پہلو کو اجاگر کرنے، اکثریت کے کلچر کو راسخ کرنے اور باہمی احترام کے لیے ہونے والی مساعی کے اعتراف میں دیا گیا۔

العیسیٰ نے جو ایوارڈ جیتا وہ ان کے کردار کی اہمیت کی علامت تھا۔ خاص طور پر چونکہ وہ رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ خلیجی خطے کی نمایاں مذہبی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ ہمہ وقت گفتگو ، رابطوں، مختلف مذاہب اور فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کےفروغ، تشدد ، تکفیری خیالات اور فرقہ واریت کی نفی کی کوشش کرتے ہیں۔

اس تناظر میں عراق کی مذہبی شخصیات کا ایک اہم اجلاس 4 اگست کو مکہ المکرمہ میں منعقد ہوا۔ عراقی علما کی آمد اور ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی براہ راست حمایت حاصل تھی۔

حالیہ برسوں میں سعودی کوششوں اور شیخ محمد العیسیٰ کی سرگرمیوں کی پیروی کرنے والوں کو احساس ہے کہ عراقی علما کا یہ "فورم" ایک عارضی اور وقتی اقدام یا صرف فوٹو سیشن نہیں تھا۔ یہ فورم مختلف ممالک کے مذہبی طبقات کے ساتھ رابطوں اور ان کے ساتھ ہم آہنگی کی مساعی کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے سعودی عرب ، "رابطہ عالم اسلامی کے توسط" سے فرقہ وارانہ بیانیے کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ اسلامی دنیا میں کشیدگی کی سطح کو کم کرنا چاہتا ہے اور "مذہب" کو ایک قوت بنانا چاہتا ہے۔ قتل اور نفرت کے چلن کے بجائے امن اور تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اور انتہا پسندانہ نظام کی نفی کررہا ہے۔

خلیج کے مقبول اور سرکاری حلقوں میں "عراقی علما فورم" کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا۔ فورم کے اعلامیے کو "سوشل نیٹ ورکس" کے ذریعے وسیع پیمانے پر شائع کیا گیا۔ تاکہ مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف رائے کے احترام ، بقائے باہمی کی طرف مائل کرنے ، تنازعات سے بچاؤ، استحکام اور سلامتی کے لیے کوشاں اور انسانی اور مسلم بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکے۔

ڈاکٹر العیسیٰ کی مساعی پر نظر رکھنے والوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا مختلف طبقات اور ثقافتوں کے درمیان رابطوں کے لیے کئی مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے سُنی اور شیعہ روحانی علما کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوگا اور ملاقاتیں جاری رہیں گی۔ ان رہ نماؤں کے ساتھ شراکت داری کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے "انتہا پسند" نظریہ کا توڑ کرنا علما کی ذمہ داری ہے۔ اس تناظر میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ العیسیٰ سرکاری دعوت پر عن قریب عراق کا دورہ کریں گے۔ جس میں وہ جمہوریہ کے صدر برہم صالح ، وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی اور مذہبی رہ نماؤں سے ملاقات کریں گے۔ نجف میں مذہبی اتھارٹی کے نمائندہ آیت اللہ علی السیستانی سے بھی ان کی ملاقات متوقع ہے۔