.

سعودی وزیرخارجہ:عراق میں ملیشیاؤں کےغیرقانونی ہتھیاروں کے خلاف مہم پرحکومت کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نےعراق کی حکومت کے مسلح ملیشیاؤں کے غیرقانونی ہتھیاروں کی ضبطی کے لیے مہم اوراقدامات کو سراہا ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روز بغداد میں منعقدہ علاقائی کانفرنس میں کہا کہ ’’خطے میں انتہاپسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اورعراق یکساں مؤقف کے حامل ہیں اور اس ضمن میں مملکت عراق کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب کی قیادت ہر سطح پرعراق کی حمایت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب بین الاقوامی اورعلاقائی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کا حامی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اورعراق نے اس سال اپریل میں تین ارب ڈالر مالیت کا ایک مشترکہ فنڈ قائم کیا تھا۔اس کے ذریعے سعودی عرب عراق کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔

مشرق اوسط کے متعدد رہ نما اور فرانسیسی صدرعمانوایل ماکروں ہفتے کے روز بغداد میں عراق کی میزبانی میں منعقدہ اس سربراہ اجلاس میں شریک تھے۔اس میں عراق کے ہمسائے میں واقع ممالک کے درمیان دوطرفہ تنازعات کو طے کرنے کے لیے باہمی مذاکرات کی حوصلہ افزائی پر زوردیا گیا ہے۔

کانفرنس کے میزبان مصطفیٰ الکاظمی نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ عراق علاقائی اور عالمی تنازعات میں اب خود کےایک درمیانی میدان کے طورپر استعمال سے انکار کرتا ہے۔

اس میں شریک خطے کے سربراہان مملکت میں مصری صدرعبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی شامل تھے۔ کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنے سربراہان حکومت اور ترکی نے وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو کو کانفرنس میں شرکت کے لیے بھیجاہے۔ سعودی عرب کی نمائندگی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کی ہے۔