.

عراق کے متعدد فوجی اڈوں پر تعینات امریکی فوج کم کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق نے امریکی حکومت کے ساتھ مل کرملک میں متعدد اڈوں میں فوجی دستوں کوکم کرنے کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ جمعے کو بغداد میں امریکی اور عراقی حکام پر مشتمل اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں طے پایا کہ عراق کی تجویز پر ملک میں اربیل اور عین الاسد فوجی اڈوں پر تعینات امریکی اور اتحادی فوج کی تعداد کم کی جائے گی۔

جُمعہ کے روز عراقی جوائنٹ آپریشنزکمانڈ نےکہا کہ ستمبر کے مہینے کے دوران انبار میں واقع عین الاسد اور اربیل میں قائم فوجی اڈوں سے امریکی فوج کی تعداد کم کی جائے گی۔ ان دونوں فوجی اڈوں سے نفری کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دونوں اڈے گذشتہ کچھ عرصے سے عراقی ملیشیاؤں کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی این اے) کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں کہا گیا ہے کہ عراقی اور امریکی فریق اتحادی قیادت کی سطح کو ایک ہیڈ کوارٹر سے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے والے ایک ہیڈ کوارٹرتک لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عراق امریکا مذاکرات

عراق میں فوجی اڈوں سے امریکی فوج کی تعداد میں کمی کا یہ معاہدہ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی نگرانی میں امریکا اور عراق کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آغاز سے ایک مہینا پہلے طے پایا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف عراق میں امریکی فوجی تنصیبات، فوجی اڈوں اور سفارتی مرکز کو نامعلوم عناصر کی طرف سے حملوں کا سامنا ہے۔

اگرچہ عام طور پر کوئی بھی فریق ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا مگر واشنگٹن اکثر ان حملوں میں ایران کے وفادار عراقی گروپوں کو قصور وار قرار دیتا ہے۔