.

اسرائیلی جیل سے مفرور آخری دو فلسطینیوں کے پکڑے جانے کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تقریبا دو ہفتوں کی تلاش اور تعاقب کے بعد اسرائیل نے اتوار کی صبح ایک اعلان میں بتایا کہ جلبوع کی جیل سے فرار ہونے والے چھ فلسطینی قیدیوں میں سے آخری دو کو بھی پکڑ لیا گیا۔ اسرائیل کے مطابق ایہم کممجی اور مناضل نفیعات کو مغربی کنارے کے شہر جنین سے حراست میں لیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی فوج کی سیکورٹی کارروائی کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے جو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب جنین شہر میں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں جلبوع کی جیل سے فرار ہونے والے چھ فلسطینی قیدیوں میں سے آخری دو بھی دوبارہ گرفتار کر لیے گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ان دونوں فلسطینیوں کو پکڑنے کی کارروائی شاباک ایجنسی اور مناشے بریگیڈز کی جانب سے عمل میں آئی۔ فوج کے مطابق ایک گھر کے محاصرے کے بعد دونوں مفرور قیدی باہر آ گئے اور بنا کسی مزاحمت کے خود کو حوالے کر دیا۔

اسرائیلی اخبار "يديعوت احرنوت" کے مطابق جنین میں داخل ہونے والی بڑی اسرائیلی فورس نے علانیہ طور پر ایک کارروائی کی جس کا مقصد دھوکا دینا تھا۔ ادھر جنین کے مشرق میں واقع ایک دوسرے علاقے میں اسرائیلی فورس کے خصوصی یونٹ نے شاباک کے ساتھ مل کر خفیہ طور اس عمارت پر چھاپا مارا جہاں دونوں فلسطینی روپوش تھے۔

عبرانی زبان کے اخبار "ہآرٹز" کے مطابق شاباک ایجنسی کے پاس درست معلومات تھیں کہ دونوں قیدی کئی روز سے اس گھر میں موجود ہیں۔ معلومات کی تصدیق ہونے کے بعد کارروائی کی گئی۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس معاملے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں اور دونوں قیدیوں کا جنین فرار ہو جانا زیادہ پیچیدہ بن جائے گا تاہم اسرائیلی فوج، شاباک اور پولیس کے مشترکہ آپریشن نے کارروائی کو نہایت آسانی سے مکمل کرا دیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائے ادرعے نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ دونوں فلسطینی قیدی زندہ ہیں اور انہیں تحقیقات کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

رواں ماہ 6 ستمبر کو اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ جلبوع جیل سے 6 فلسطینی قیدی سرنگ کے راستے فرار ہو گئے۔

واضح رہے کہ مذکورہ جیل پر کڑا پہرا رہتا ہے۔

بعد ازاں 10 ستمبر کو اسرائیلی پولیس نے چھ میں سے دو کے گرفتار کر لیے جانے کا اعلان کیا ،،، اور پھر دو مزید قیدیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔