.

ایران گیس کی برآمدات میں توسیع سے متعلق عراق کی تجاویز پر غور کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نیوز چینل "العالم" کے مطابق ایرانی وزیر تیل کے معاون نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ان کا ملک عراق کی اُن تجاویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے جن میں زور دیا گیا ہے کہ عراق کو گیس کی برآمد میں توسیع کی جائے۔

مذکورہ ایرانی ذمے دار نے بغداد حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابقہ اور موجودہ معاہدوں کی پاسداری کرے۔

اگرچہ عراق تیل سے مالا مال ملک ہے تاہم توانائی کے شعبے میں وہ بڑی حد تک ایران پر انحصار کرتا ہے۔ عراق گیس اور بجلی کی ضروریات میں سے ایک تہائی حصہ ایران سے درآمد کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عراق کا کمزور بنیادی ڈھانچہ ملک کی 4 کروڑ کی آبادی کے لیے توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔

ایران نے گذشتہ ماہ اگست میں عراق کو بجلی کی برآمد معطل کر دینے کا اعلان کیا تھا۔

تہران کا مطالبہ ہے کہ بغداد 6 ارب ڈالر سے زیادہ کے بقایا جات کی ادائیگی کرے۔ واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کے سبب ایران کو ڈالر کی شکل میں کوئی رقم ادا نہیں کی جا سکتی۔

امریکا نے رواں سال مارچ میں عراق کو 120 روز کی مہلت دی تھی تا کہ اس دوران میں وہ اریان سے بجلی کی درآمد کی مد میں بقایا جات کی ادائیگی کر دے۔

جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی مہلت کے موجب عراق چار ماہ (اپریل کے آغاز سے اگست کے آغاز) تک ایران سے بجلی اور گیس درآمد کرتا رہا۔