.

سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات میں ’’اچھی پیش رفت‘‘ ہوئی ہے: ایرانی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات میں’’اچھی پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔

انھوں نے جمعرات کو بیروت میں لبنان کے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری بات چیت کے ’’مثبت اثرات‘‘ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے مشرقِ اوسط میں غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کو علاقائی عدم استحکام کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ اگست میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد لبنان کا یہ پہلا دورہ کررہے ہیں۔انھوں نے لبنانی صدر میشیل عون ،وزیراعظم نجیب میقاتی اور پارلیمانی کے اسپیکر نبیہ بری سے الگ الگ ملاقات کی ہے۔بعد میں ایک نیوزکانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے سعودی عرب اورایران کے درمیان جاری مذاکرات کا مثبت انداز میں جائزہ لیا ہے۔‘‘وہ دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان اپریل سے جاری براہِ راست مذاکرات کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے مزیدبتایا کہ ’’عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات کا نیا دور جلد شروع ہوگا۔‘‘ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان جون میں ابراہیم رئیسی کے بہ طور صدر انتخاب کے بعد سے ویانا میں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے گذشتہ اتوار کوکہا تھا کہ مملکت اور ایران کے درمیان مذاکرات ابھی ’ دریافتی مرحلے‘‘میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ مذاکرات کا چوتھا دور21 ستمبرکو ہوا تھا اور یہ بات چیت دریافتی مرحلے میں باقی ہے۔

شہزادہ فیصل نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بورل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا :’’ہمیں امید ہے کہ فریقین مسائل کے حل کی بنیاد رکھیں گے اور ہم اس مقصد کے حصول کے لیےمل کر کام کریں گے۔‘‘

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ تہران اور الریاض کے درمیان مذاکرات میں خلیج میں سلامتی کے معاملے پر’’سنجیدہ پیش رفت‘‘ہوئی ہے۔

اگست میں ایران کے نئے سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے چارماہ کے دوران میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں سعودی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہوئے تھے۔