.

سربستہ راز: کیا سعودی عرب کی عجیب وغریب چٹان لیزر سے دو حصوں میں کاٹی گئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مملکت کی شمال مغربی سمت میں واقع تیما کمشنری میں ریت کی چٹان نے غیر ملکی ماہرین کو حیرت زدہ کردیا ہےـ ریتیلی پتھروں پر مشتمل چٹان درمیان سے دوحصوں میں اس طرح منقسم ہے کہ اسے دیکھ کر یہی گمان ہوتا ہے کہ چٹان کو تیز دھار آڑی یا بلیڈ سے کاٹا گیا ہےـ

برسٹل یونیورسٹی کی جیولوجسٹ وماہر ارضیات چیری لویس کی برطانوی جریدے ’ ڈیلی میل‘ سے کی گئی گفتگو کے حوالے سے کہا کہ چٹان قدرتی طور پر کٹی ہوئی ہےـ کٹائی کا یہ عمل موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے رونما ہو سکتا ہےـ

چٹان کی عجیب و غریب انداز میں ہونے والی کٹائی کے حوالے سے چیری لویس کا اندازہ ہے کہ بہت ممکن ہے کہ لاکھوں برس قبل یہ چٹان مکمل ہو اور اس کے کسی گڑھے میں پانی جمع ہو گیا ہو جو موسم سرما میں جم کر برف میں تبدیل ہو گیا- بعدازاں برف پگھلنے پر پانی چٹان کی کسی دراڑ میں گرنے سے اس میں معمولی سی دراڑ پڑ گئی ہوـ پانی اور برف کا یہ عمل صدیوں پر محیط رہا ہو اور بالاخر اس نے موجودہ صورت اختیار کرلی ہو جو اب ہمارے سامنے ہےـ

تاہم چیری نے اس عمل میں انسانی مداخلت کی قطعی طور پر نفی بھی نہیں کی اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ پتھر کے دور کے انسان جنہوں نے چٹانوں کو چیر کر اس پر نقش ونگار کنندہ کیے اور رہنے کے لیے مکانات بنائے ـ سابقہ تہذیبوں کا مشاہدے کرنے پرمعلوم ہوتا کہ انہوں نے اس دور میں سادہ ترین اوزاروں سے کس طرح چٹانوں کو مسخر کیا اور ان پر نقش ونگار بنائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس چٹان کی تقسیم بھی اس دور کے انسانوں کا کارنامہ ہو تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنا بہت مشکل ہےـ

دوسری جانب برمنگھم یونیورسٹی کے ماہر ارضیات جو جیوفزیکسٹ پروفیسر ٹم ریسٹون کا کہنا تھا کہ عام طور پر چٹان میں دراڑ یا شگاف کا پیدا ہونا قدرتی عمل ہے جو ہوا کے دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہےـ

پروفیسر ٹم کا مزید کہنا تھا کہ ممکن ہے یہ دراڑ اس وقت پیدا ہوئی ہو جب یہ ایک مکمل چٹان ہو اور اندرونی طورپر چھوٹی سی دراڑ نے اسے اس شکل میں تقسیم کر دیا ہوـ

واضح رہے کہ چٹان کو ’النصلہ ‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اسے دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ چٹان کو درمیان سے کسی بلیڈ کی مدد سے انتہائی ماہرانہ انداز میں کاٹا گیا ہے- اس چٹان کے قریب دیگر چٹانوں پر عہد ثمود کے آثار پائے جاتے ہیں جو مختلف حیوانی شکلوں کی صورت میں چٹانوں پر کھودے گئے تھے-