.

اسرائیل: انسانی حقوق کے 6 فلسطینی ادارے "دہشت گردی" کی فہرست میں درج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں وزارت عدلیہ کی جانب سے جمعے کی شام جاری "دہشت گردی کی فہرست" میں انسانی حقوق کے چھ فلسطینی اداروں کے نام شامل کر دیے گئے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ ادارے "عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین" تنظیم کے ساتھ مربوط ہیں۔ مزید یہ کہ ان اداروں نے 2014ء سے 2021ء کے درمیان کئی یورپی ممالک سے 20 کروڑ یورو سے زیادہ حاصل کیے۔

مذکورہ اداروں پر پابندی کی منظوری دینے والے اسرائیلی وزیر برائے امن عامہ بینی گینٹز نے عالمی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والی تنظیموں سے تعلقات ختم کر لیں۔

پابندی کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ان اداروں کی سرگرمیوں پر پابندی ہو گی اور ان کو عطیات دینا ممنوع ہو گا۔ ساتھ ہی ان اداروں کے ملازمین اور رضا کاروں کو گرفتار کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے تا کہ ان کے خلاف دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے الزام کے تحت عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

ادھر مذکورہ چھ فلسطینی اداروں (الحق، الضمير، بیسان مرکز، بچوں کے دفاع کی عالمی تحریک کی فلسطینی شاخ، عرب خواتین کمیٹیز کا اتحاد اور زراعت سے متعلق کمیٹیز کا اتحاد) نے اسرائیلی الزامات کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فیصلے کا قانونی صورت میں جواب دیں گے۔

اسرائیل کی امن عام عامہ کی وزارت کی جانب سے جمعے کی شام جاری بیان کے مطابق ان فلسطینی اداروں نے یورپی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے جعل سازی اور دھوکے کے ذریعے بھاری رقوم حاصل کیں اور ان کو فلسطینی قیدیوں اور دہشت گرد حملوں کے ارتکاب کے دوران میں مارے جانے والے فلسطینیوں کے خاندانوں کی کفالت پر خرچ کیں۔ علاوہ ازیں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے کارکنان کی تنخواہوں اور بیت المقدس میں تنظیمی سرگرمیوں کے اخراجات کی ادائیگی بھی کی گئی۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں یورپی سفارت کاروں سے ملاقات کی ہے اور یورپ میں اسرائیلی سفارت کاروں کو ان کے میزبان ممالک کی حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقات کے لیے بھیجا ہے۔ اس کا مقصد یہ مطالبہ کرنا ہے کہ "عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین" سے مربوط غیر سرکاری فلسطینی تنظیموں کو عطیات دینے سے روکا جائے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیل کی جانب سے اعلان کردہ فیصلے فلسطینی سول سائٹی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق پر غیر قانونی تزویراتی حملہ ہے۔ اس زیادتی کے غیر معمولی بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں"۔ فلسطینی وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تنظیموں کے خود کے دفاع کے حق کی حمایت کرے۔

فلسطینی اراضی میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کے بیورو نے اسرائیلی اقدام پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے طویل عرصے سے ان تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق امریکا ان تنظیموں کو دہشت گردی میں شامل کیے جانے سے متعلق مزید معلومات کے حصول کے واسطے اسرائیل سے بات کرے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ "ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کا احترام اور مضبوط سول سوسائٹی ،،، ذمے دارانہ حکمرانی کے لیے انتہائی اہم امور ہیں"۔

ادھر ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فیصلے سے ان (فلسطینی) تنظیموں کی سرگرمیوں کو مجرمانہ بنا کر اسرائیلی حکام کو اجازت دی جا رہی ہے کہ ان کے دفاتر بند کر دیں، ان کے اثاثے ضبط کر لیں، ان کے ملازمین کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیں اور ان کی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ پر پابندی لگا دیں۔