.

شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے سفارتی مساعی تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے الجزائر میں ہونے والے آئندہ عرب سربراہ اجلاس کے دوران شام کی متوقع واپسی کے بارے میں بات کرنے کا دروازہ کھولا ہے۔ اس کانفرنس میں میزبان ملک کے کامیابی کے امکان کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے کہ آیا الجزائز شام کی لیگ میں واپسی پر عرب ممالک کو متفق کر پائے گا یا اس حوالے سے کوئی ڈیل طے پاچکی ہے۔

ابو الغیط نے کہا کہ عرب ممالک جن میں الجزائر، عراق اور اردن شامل ہیں، پہلے ہی شام کی عرب لیگ میں واپسی کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ سربراہ اجلاس کے موقعے پر شام کی لیگ میں واپسی سے متعلق قرارداد پیش کیے جانے پر کسی حد تک عرب اتفاق رائے موجود ہے۔ کچھ عرب ممالک خاموشی سے شام کی حمایت کر رہے ہیں لیکن میں نے دمشق کی عرب لیگ میں اپنی نشست پر واپسی کے آغاز کے حوالے سے کوئی سرکاری یا غیر سرکاری درخواست نہیں دیکھی۔

سکریٹری جنرل نے اعلان کیا کہ اگلی عرب سربراہی کانفرنس اگلے مارچ کے مہینے میں الجزائر میں منعقد کی جائے گی۔ اس میں علاقائی اور عرب پیش رفتوں اور عرب ممالک میں ظہور پذیر ہونے والےواقعات پر بات کی جائے گی۔ ان میں خاص طور پر فلسطین، سوڈان، لیبیا۔ تیونس، لبنان اور عراق شامل ہیں۔ اجلاس میں عرب خطے کے استحکام میں عرب لیگ کے موثر کردار پر بات کی جائے گی۔

احمد ابو الغیط کے بیان پر بعض مبصرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ عرب لیگ میں شام کی واپسی کو قبول کرنے کا معاملہ طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خاص طور پر چونکہ زیادہ تر عرب ممالک اس واپسی کو مسترد کر رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

جدید اور عصری تاریخ کے پروفیسر رابح لوینسی نے کہا کہ الجزائر کی سفارت کاری حالیہ دنوں میں مضبوطی کے ساتھ واپس آئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ الجزائر شام پر جمود کے حوالے سے عرب ملکوں میں پائے جانے والے تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔