.

سعودی عرب میں اقامے کی کم از کم مدت کے قانون پر عمل درآمد شروع

نئے سعودی قانون کے تحت اقامے میں توسیع کم ازکم تین ماہ تک کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ اور وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی نے 3 ماہ کی بنیاد پر تارکین وطن کو اقامہ کی فراہمی کے نئے قوانین کا اطلاق شروع کر دیا ہے۔نئے قوانین کے تحت ریزیڈنسی پرمٹ [اقامہ] کی توسیع میں کم از کم اضافہ تین ماہ کے لئے کیا جائے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سعودی پریس ایجنسی [SPA] کے مطابق اس اقدام کو قومی انفارمیشن سنٹر کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی کے تعاون سے اطلاق کیا گیا ہے۔

یہ امر کابینہ کی جانب سے کئے جانے والے فیصلے کی روشنی میں مکمل کیا گیا ہے۔ سعودی کابینہ نے اپنے ایک اجلاس میں ورک پرمٹ سے منسلک اقامہ کی کم سے کم مدت تین ماہ تک بڑھا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے میں گھریلو ملازمین اور دیگر کو مستشنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

اس نئے نظام کے تحت آجر ورک پرمٹ سے منسلک اقامے کی فیس ادا کر کے اس میں تین، چھ یا نو ماہ کے لئے بھی توسیع کروا سکے گا۔ اس سے قبل صرف 12 مہینے یا ایک سال کی توسیع کی اجازت تھی۔

اس سے قبل وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے 3 نومبر کو آن لائن سہولیات کا آغاز کیا تھا جس میں اقامے میں توسیع بھی شامل تھی۔ یہ سروسز ابشر انفرادی، ابشر بزنس، مقیم اور قوی کے پلیٹ فارم پر بھی دستیاب ہیں۔

اس نظام کے تحت آجر فی ماہ کے حساب سے 800 سعودی ریال فیس ادا کر کے اقامہ میں توسیع کروائے گا جو کہ ایک سال کے دورانیے کے لئے 9 ہزار 600 ریال بنتا ہے۔تارکین وطن اپنے اقامہ میں توسیع کے موقع پر اپنے خاندان والوں کی فیس بھی ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی فیس فی فرد 400 ریال ماہانہ ہوگی۔