سعودی عرب کی جانب سے 6 ممالک کے لیے براہ راست مملکت آمد کے فیصلے پر عمل درامد کا آغاز آج بدھ کے روز سے ہو گیا ہے۔ مذکورہ چھ ممالک سے مسافروں کی براہ راست آمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ 25 نومبر کو کیا گیا تھا۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ چھ ممالک انڈونیشیا، پاکستان، برازیل، ویتنام، مصر اور بھارت ہیں۔ اب مملکت میں داخل ہونے سے قبل مذکورہ ممالک سے باہر 14 روز گزارنے کی شرط باقی نہیں رہی۔
سعودی شہری ہوابازی کی اتھارٹی نے تمام فضائی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ آمد سے متعلق اقدامات کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ ان میں پرواز سے 72 گھنٹے قبل نافذ العملPCR سرٹفکیٹ، آمد کے پلیٹ فارم پر اندراج، مملکت کے بیرون کی صورت حال سے قطع نظر ادارتی قرنطینہ کے اقدامات پر عمل درامد اور طبی قرنطینہ کے پہلے اور پانچویں روز طبی معائنہ شامل ہے۔
سعودی عرب نے جمعے کے روز کئی ممالک سے فضائی پروازوں کی آمد و رفت معطل کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان میں جنوبی افریقا، نمیبیا، بوٹسوانا، زمبابوبے، موزمبیق، لیسوٹو اور اسواٹینی شامل ہے۔ اس فیصلے کی وجہ وہاں پر کرونا کی وبا کا پھیلاؤ بتایا گیا۔
یاد رہے کہ جنوبی افریقا میں سائنس دانوں نے گذشتہ ہفتے کرونا وائرس کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کے انکشاف کا اعلان کیا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق 1.1.529B ویریئنٹ نہایت تیزی سے پھیلتا ہے۔
سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل نے منگل کی شام باور کرایا کہ ان کے ملک نے کرونا اور اس کے تمام ویریئنٹوں پر روک لگانے کے لیے مکمل تیاری کر لی ہے۔
-
سعودی عرب میں شمالی افریقہ سے لوٹنے والے شہری میں اومیکرون کی تصدیق
سعودی وزارت صحت نے ملک میں پہلے اومیکرون کیس کی تصدیق کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب خطے میں مرکزی کھلاڑی ہے : پیرس
فرانس نے آج منگل کے روز مشرق وسطی میں سعودی عرب کے کردار کی اہمیت پر روشنی ڈالی ...
بين الاقوامى -
ایران خطےمیں کشیدگی پھیلانے سے باز آئے:سعودی عرب
اقوام متحدہ میں مملکت سعودی عرب کے مستقل مندوب سفیر عبداللہ بن یحیی المعلمی نے کہا ...
مشرق وسطی