جوہری ایران

ایران نے افزودگی میں 20 فیصد اضافے کے لیے سینٹری فیوجز کا کام شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر ویانا میں مذاکرات کے جلو میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران نے ایک پہاڑ کے اندر موجود فوردو جوہری پلانٹ میں جدید سینٹری فیوجز کے ذریعے یورینیم کو 20 فیصد سے زیادہ خالصتاً افزودہ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے ایران کے اس اقدام کو کشیدگی میں اضافے کا باعث قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ ایران نے فوردو پلانٹ میں 166 IR-6 سینٹری فیوجز کی ایک سیریز میں 5 فیصد تک افزودہ یورینیم فلورائیڈ کا انجیکشن لگایا ہے جس کا مقصد اس کو خالص بنانے کے عمل کو 20 فیصد تک بڑھانا ہے۔

رائیٹرز کے مطابق ’آئی اے ای اے‘ نے رکن ممالک کو دی گئی ایک رپورٹ میں یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ وہ فوردو کی سہولت پر معائنہ کی تعداد کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔آئی اے ای اے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "ایجنسی نے اصرار کیا ہے اور ایران نے فوردوتنصیب پر تصدیقی سرگرمیوں کی رفتار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان سرگرمیوں کے نفاذ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے طریقہ کار کے انتظامات پر ایران کے ساتھ مشاورت جاری رہے گی۔

آئی اے ای اے کی طرف سے گذشتہ ماہ جاری کردہ رپورٹ میں اشارہ دیا گیا تھا کہ ایران وہاں 166 IR-6 مشینیں چلا رہا ہے۔

تہران کی طرف سے وضاحت کا انتظار

اس کے ساتھ ساتھ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں انتظار اور توقعات کی فضا قائم ہے جس میں دو روز قبل ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات جہاں سے رکے تھے دوبارہ شروع ہوئے تھے۔ بدھ کو العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے یورپی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مذاکرات کے ساتویں دور کے آغاز کے باوجود مغربی فریق اب بھی تہران کی جانب سے مذاکرات کو جاری رکھنے کے بارے میں وضاحت کا انتظار کر رہے ہیں جہاں پر پچھلے دور رہ گئے تھے۔

یورپی ممالک یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ایران مذاکرات کی آڑ میں وقت حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا ہے۔ آیا وہ اس میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں