سعودی عرب میں 70 سال پیشتر بنائی جانے والی پہلی فلم کا قصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سنیما کے ساتھ سعودیوں کا رشتہ کئی دہائیوں پرانا ہے۔ مملکت میں پہلی فلم میں حفظان صحت کے حوالے سے معاشرے میں رائج بعض نظریات کو درست کرنے کے بارے میں تیار کی گئی تھی۔ یہ فلم تقریباً ستر سال قبل تیار کی گئی۔ جب حسن الغانم نے افتتاحی ٹیپ کاٹ کر اس طرح کی پہلی سعودی فلمی اداکار، فلم "الذباب" پر کام شروع کیا۔ یہ فلم آرامکو کمپنی کی طرف سے پروڈیوس کی گئی۔

اس پرمرحوم اداکار کے بیٹے اور پروڈیوسر ماہر الغانم نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ان کے والد نے ظہران کے الجبلہ پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کی جہاں انہوں نے عربی اورانگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ انگریزی زبان ان کے لیے فلمی دنیا میں آنے میں معاون ثابت ہوئی۔ انہوں نے اس اسکول کے ابتدائی مرحلے میں شاہ عبدالعزیز کے سامنے دونوں زبانوں میں تقریر کی جس پر انہوں نے حسن الغانم کی ذہانت کو سراہتے ہوئے 500 ریال سے نوازا تھا۔

اسکالرشپ کا پہلا بیچ

انہوں نے مزید کہا کہ میرے والد آرامکو کے اسکالرشپ کے پہلے بیچ میں شام کے شہر حلب اور اس کے بعد بیروت گئے۔ حلب اور بیروت میں تعلیمی سفر کے دوران انہوں نے سنیما کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ ان مجموعی مراحل کے بعد ایک امریکی فلم کا عملہ جو ’ہالی ووڈ‘ سے تھا صحت کے خطرات اور ضروری طبی آگاہی کے بارے میں ایک فلم بنانے کے لیے سعودی سرزمین پر پہنچا۔ اُنہیں تیزی سے پھیلتی ایسی بیماریوں جن کے نتیجے میں بہت سے لوگوں کی زندگیاں ختم ہوگئیں پر ایک فلم بنانا تھی۔ ان بیماریوں کے باعث ان کے والد کے 13 بھائی چل بسے تھے۔انہوں نے حفاظتی طب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور آرامکو میں ہیلتھ ایجوکیشن کے سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی۔

فلم کے ہیرو کا انتخاب

فلم کے عملے نے اس میں کردار ادا کرنے والے افراد کی تلاش شروع کی۔ حسن الغانم کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے امریکی ٹیم نے انہیں فلم میں ہیرو کے طور پر کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی ایک وجہ ان کا روانی کے ساتھ انگریزی زبان میں بات کرنا بھی تھا۔ اس فلم میں انہوں نے صالح کے فلمی نام کے ساتھ کردار ادا کیا۔ صالح ان کا ایک بھائی تھا جو بیماری میں فوت ہو گیا تھا۔ فلم کی شوٹنگ اڑھائی ماہ تک جاری رہی۔ یہ سنہ 1950ء کی بات ہے جب سعودی عرب میں پہلی فلم ریلیز ہوئی جس کا دورانہ تیس منٹ تھا۔

فلم کے کچھ مناظر بار بار فلمائے گئے۔ ماہر غانم کے مطابق فلم کے پردے کے پیچھے موجود شائقین کے تبصروں اور قہقہوں کی وجہ سے اس کے بعض سین بار بار دہرائے گئے۔ چونکہ لوگ اس وقت کیمرے کے قریب بیٹھ کر اس کے تقاضوں سے آگاہ نہیں ہوتے تھے۔ جب فلم تیار ہوگئی تو اسے پبلک میں کھلے مقامات پر دکھانے کا اعلان کیا گیا۔ فلم دیکھنے کے لیے کھڑکی توڑ رش پڑ گیا اور مردو خواتین شائقین کی بڑی تعداد نہ صرف فلم دیکھنے کے لیے امڈ آئی بلکہ اسے بار بار دکھانے کا بھی مطالبہ کیا جانے لگا۔

حسن الغانم
حسن الغانم

صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنا

سعودی عرب میں تیار کی جانے والی پہلی فلم ’ذباب‘ کو آٹھ زبانوں میں ڈب کرکے نشر کیا گیا۔ فلم کا بنیادی ’تھیم‘ اور مقصد صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا اور متعدی امراض سے بچاؤ کے لیے شعور پیدا کرنا تھا۔

ماہر غانم کا کہناہے کہ یہ فلم ڈرامے کے بغیر نہیں ہے کیونکہ یہ خلیج میں پہلی ڈیکوڈراما پروڈکٹ ہے۔آرامکو نے یہ فلم حسن کو تحفے میں دی جس کی رائلٹی اور نشریات کے حقوق ان کے خاندان کے پاس ہیں۔

ان کے بیٹے کے مطابق مشرقی صوبے میں ثقافت اور فنون کی تنظیم نے درخواست کی کہ فلم کو مکمل طور پر دکھایا جائے۔ دوسری جانب ایک میوزیم میں نمائش متوقع ہے۔ مستقبل میں فلم کے کچھ شارٹس دکھائے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں