شام میں کرد فورسز کا ترکی پر افراتفری پھیلانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ ترکی ہمارے زیر کنٹرول علاقوں میں افراتفری پھیلانے کے مفادات کے تحت کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقرہ ان کی فوج پر حملہ کرنے کے لیے داعش کے عناصر کی حمایت کرتا ہے۔

ایس ڈی ایف نے مزید کہا کہ اس کی فورسز نے حسکہ میں رہائشی محلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک آپریشن شروع کیا ۔ حسکہ میں غویران جیل پر حملے کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ تھے۔

کرد فورسز نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ داعش غویران کے پڑوس میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ داعش کے جو جنگجو غویران جیل کے اندر قید ہیں وہ فرار نہیں ہوسکے۔ کرد فورسزنے الحسکہ میں غویران جیل کے آس پاس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

اس سے پہلے داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں مشترکہ ٹاسک فورس کے کمانڈر جان برینن نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ان کی افواج نے تنظیم کے خلاف غویران جیل (حسکہ میں) کے خلاف سلسلہ وار حملے کیے ہیں۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب داعشی جنگجوؤں نے غویران جیل پر دھاوا بول کر اپنے جنگجوؤں کو چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ اس کارروائی میں داعش نے جیل کے سیکیورٹی عملے کے متعدد اہلکاروں کو اغو کرلیا تھا۔

الحکسہ میں ہونے والی جھڑپوں میں داعش کے مارے گئے جنگجو
الحکسہ میں ہونے والی جھڑپوں میں داعش کے مارے گئے جنگجو

بین الاقوامی اتحاد کے ایک بیان میں برینن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ داعش کی قیادت میں آپریشن کو ایک "مایوس کوشش" قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تنظیم نے اپنے بہت سے ارکان کو "موت کی سزا جاری کی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اتحاد کسی بھی خطرے کے خلاف اپنے اور اپنی شراکت دار افواج کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور یہ کہ وہ ان قوتوں کے تحفظ کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جب داعش کے زیر حراست افراد نے ہتھیار اٹھائے، تو وہ ایک فعال خطرہ بن گئے۔ پھر وہ ہمارے ساتھ تصادم میں آگئے اور شامی ڈیموکریٹک فورسز اور اتحاد کے فضائی حملوں میں مارے گئے۔ جن قیدیوں نے اس آپریشن میں حصہ نہیں لیا تھا انہیں سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں