اسرائیل کا خطۂ خلیج میں بحرین کے ساتھ پہلا دفاعی سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل اوربحرین کے درمیان جمعرات کو ایک دفاعی سمجھوتاطے پا گیا ہے۔ سواایک سال سے زیادہ عرصہ قبل اسرائیل کا منامہ اورابوظبی کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کسی خلیجی ملک کے ساتھ اس طرح کا یہ پہلا سمجھوتا ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع بینی گینزکے بحرین کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پراس سمجھوتے پر دست خط کیے گئے ہیں۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ سمجھوتا دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کونئی بلندیوں پرلے جائے گا۔اس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس،(دفاعی سازوسامان کی )خریداری اور مشترکہ فوجی تربیت میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا‘‘۔

بحرین اورمتحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کے لیے ستمبر2020ء میں واشنگٹن میں امن معاہدے پر دست خط کیے تھے۔امریکا کی ثالثی میں طے شدہ یہ معاہدہ ،’’معاہدہ ابراہیم‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ان کے علاوہ سوڈان اورمراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ اسی نام سے امن معاہدے طے کیے تھے۔

بینی گینز نے کہا کہ امن معاہدے پردست خط کے صرف ایک سال کے بعد ہم نے ایک اہم دفاعی سمجھوتا طے کیا ہے۔اس سے دونوں ممالک کی سلامتی اورخطے کے استحکام میں مدد ملے گی۔

انھوں نے بحرین میں قائم امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کے صدردفتر کا بھی دورہ کیا ہے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ’’سمندری اورفضائی خطرات‘‘کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ گہرے تعاون پرزوردیا تھا۔

بینی گینزنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ بڑھتے ہوئے سمندری اور فضائی خطرات کے پس منظرمیں ہمارا آہنی خود کا حامل تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ہم نے اپنے علاقائی شراکت داروں کی خودمختاری کے دفاع کے ساتھ ساتھ خطے میں امن واستحکام کے تحفظ میں متحدرہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے‘‘۔

اسرائیلی وزیردفاع نے گائیڈڈ میزائل سے لیس یوایس ایس کول کوبھی ملاحظہ کیا جو یمن سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کے خلاف متحدہ عرب امارات کے دفاع میں مدد کے لیے ابوظبی جانے کوتیار ہے۔

یادرہے کہ یو ایس ایس کول اکتوبر2000 میں یمن کی جنوبی بندرگاہ عدن میں القاعدہ کے خودکش بم دھماکے کا نشانہ بنا تھا۔اس حملے میں 17 امریکی سیلرزہلاک ہوگئے تھے۔

بحرین میں امریکی فوج کا اڈا ایران سے خلیج کے بالکل پارواقع ہے۔ یہاں سے روزانہ سیکڑوں تیل بردار اور مال بردار جہاز گذرتے ہیں۔حالیہ برسوں میں جہازرانی کی بین الاقوامی گذرگاہ آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر تخریبی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔امریکا اور اس کے اتحادی ایران پران حملوں کے الزامات عاید کرتے ہیں جبکہ تہران ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں