’یقین نہیں تھا کہ میری تیار کردہ عبایہ کو لوگ اتنا پسند کریں گے‘
رجال المع کے ورثے کو فیشن ڈیزائن کے ذریعے اجاگرکرنے والی سعودی ڈیزائنر
سعودی عرب میں عبایہ کی ایک ڈیزائنر نادیہ العبداللہ نے رجال المع کے ورثے کو اپنی عبایا کےڈیزائن کی ایک شناخت کےطورپرمنتخب کیا۔ اس کا کہناہے کہ وہ مملکت کے تمام خطوں کے ورثے کو اپنی عبایہ ڈیزاین کے ذریعے اجاگر کرنے کی کوشش کریں گی کیونکہ مملکت کا ہر علاقہ بیش قیمت تاریخی ورثے کا مالک ہے۔
نادیہ العبداللہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسے عبایہ کی ڈیزائننگ کا یہ شوق اپنی والدہ سے ملا۔ اس کی ماں بھی عبایہ ڈیزائن کرتی ہیں۔ انہیں ڈیزائن اور کپڑے سلائی کا شوق تھا، جس کی وجہ سے اس نے اپنا عبایا ڈیزائن کیا۔
ایک سوال کے جواب میں نادیہ نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے عبایا نے میرے خاندان اور دوستوں کی توجہ حاصل کرلی۔ انہوں نے مجھے اس شعبے میں مزید بہتر کام کرنے کی ترغیب دی، خاص طور پر جب انہوں نے مجھ سے اپنے عبایہ کو ان کے لیے ڈیزائن کرنے کو کہا۔
اس نے مزید کہا کہ میں مشرقی صوبے میں آرامکو میں سرکاری تقریبات کے انعقاد اور انٹیریئر ڈیزائن کے شعبے میں کام کرتی ہوں۔ چار بچوں کی ماں ہوں۔ میں نے اپنے بچوں کی پرورش کے لیے ان کے والد کی موت کے بعد سے خود پر انحصار کیا ہے، اور میری خواہش ترقی کرنا اور فیشن ڈیزائن کے میدان میں کوئی نیا کام کرنا میرا مقصد ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ زندگی میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے ایک میرے چھوٹے بچوں اور اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال کرنا تھی۔ چونکہ میں اپنی رہائش گاہ سے دور ایک علاقے میں کام کر رہی تھی، لیکن جب بھی میرا ذہن صاف ہوتا تو میں بھاگ کر ڈیزائننگ کے لیے ایک دکان پر جاتی۔
اپنے ڈیزائنوں کے ساتھ ورثے کو متعارف کرانے کے شعبے میں اپنی شروعات کے بارے میں، اس نے کہا کہ میری شروعات مختلف ثقافتوں کے ورثے کو سجاوٹ اور عبایہ میں متعارف کروانے شروع ہوئی لیکن تین سال پہلے کمپنی نے مجھے ڈیزائن کرنے کے لیے جازان بھیجا۔ وہاں میرا کام عمارتوں کی سجاوٹ کرنا تھا۔ مگر میرے وہاں قیام کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ میں نے جنوبی علاقوں کا وزٹ کیا اور ان کی ثقافت اور ورثے کے بارے میں جان کاری حاصل کی۔ وہاں میری نظر ثقافتی ورثے، علاقے اور مصوروں کے آرٹ پر پڑی۔ وہاں سے میں نے سوچا کہ جو عبایا میں تیار کرتی ہوں ان پر اس علاقے کے ورثے کی چھاپ ڈیزاین کی جا سکتی ہے۔اس سے اس علاقے کے کلچر کو عام کرنے کا موقع ملے گا۔
اس نے مزید کہا کہ اس سے عبایوں کو ڈیزائن کرنے کے میرے شوق میں اضافہ ہوا جو ایک الگ اور مختلف انداز میں اس علاقے کی شناخت کی علامت ہے۔ اب میری تیار کردہ عبایہ کو بہت پسند کیا جاتا ہےاور وہ رجال الالمع کے ورثے کی علامت بن چکی ہیں۔
-
"عبایا" کی مخصوص شکل کا اسلام کی بنیادی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں: شیخ احمد الغامدی
مکہ مکرمہ ریجن میں سعودی عرب کی مذہبی پولیس "ہیئۃ الامر بالمعروف والنہی عن ...
ایڈیٹر کی پسند -
شیخ عبداللہ المطلق نے"عبایا" سے متعلق اپنے فتوے کی وضاحت کر دی
سعودی عرب میں سینئر علماء کمیٹی کے رکن اور شاہی دیوان کے مشیر شیخ عبداللہ المطلق ...
مشرق وسطی -
سعودیہ: خواتین کے لیے اسپورٹس کلبوں کے رنگا رنگ عبایا تیار
خواتین تماشائیوں کواسٹیڈیم میں آنے کی اجازت کے بعد دکانوں رش بڑھ گیا
بين الاقوامى