سعودی عرب کی ایک نوجوان آرٹسٹ خلود نوار نے ورثے کی زبان میں ماحولیاتی مواد کا استعمال کرتے ہوئے دروازوں اور کھڑکیوں کو فن پاروں میں تبدیل کیا۔
نوار نے اپنے کاموں میں ورثے کی محبت کے لیے اپنا اثر و رسوخ وقف کیا، جسے انہوں نے پینٹنگز تک پہنچایا اور سعودی ورثے کے رنگوں کی خوبصورتی ،اپنے فن پاروں اور مجسموں میں "نوادرات" کو اجاگر کیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے وضاحت کی کہ فن کی تعلیم اور بہترین گریڈ کے ساتھ اس کی گریجویشن ان سب سے اہم بنیادوں میں شامل تھی جس نے اسے تخلیقار ہونے کے قابل بنایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کارپوریشن سے آرٹ کے شعبے میں ٹرینر کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔
نوار نے فن سے اپنی محبت کی کہانی بیان کرتے ہوئےبتایا کی آرٹ اس کی دلچسپی چھوٹی عمر سے تھی۔ ہائی اسکول کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں شعبہ اینیمل بیالوجی میں داخلہ لیا اور وہاں ایک ماہ تک تعلیم حاصل کی، لیکن وہاں انہیں ان کی پہچان نہ ملی۔ اس لیے انہوں نے آرٹ کی تعلیم کی طرف رجوع کیا اور اپنی یونیورسٹی کی تعلیم امتیازی نمبروں کے ساتھ مکمل کی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی فنون لطیفہ کی تعلیم کو اپنےآرٹ کے کام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے اپنے آرٹ کے پیغام میں وطن سے محبت اور مستند سعودی ورثے سے محبت کے اعلیٰ ترین مفہوم اور سعودی ورثے کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔
ایک سوال کے جواب میں نوار نے کہا کہ اس کے کام کی سب سے اہم خصوصیت تفصیلات کی درستگی اور موضوعات کا تنوع ہے۔ جدہ شہر کے البلاد علاقے میں روایتی حجازی مکانات کے ماڈل بنانے سے لے کر اور ورثے کے دروازوں کو بھی اس نے آرٹ کے نمونوں میں پیش کیا اور ایسی نوادرات جنہیں ماضی میں روز مرہ زندگی میں استعمال کیا جاتا رہا ہے اس کے آرٹ ورک میں شامل ہیں۔