’زہرہ اور مشتری کے ملاپ‘ کا منظر سعودی عرب اور عرب دنیا میں دیکھا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

توقع ہے کہ سعودی عرب اور عرب دنیا کے آسمان پر آج یکم مئی 2022 اتوار کی صبح طلوع آفتاب سے پہلے ایک منفرد فلکیاتی منظر دیکھا گیا۔ یہ منظر زہرہ اور مشتری کے درمیان ایک غیر معمولی ظاہری قربت کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ بہ ظاہر ایک دوسرے کے قریب ترین فاصلے پر تھے۔ ان دونوں کے درمیان جنوب مشرقی افق پر0.2 ڈگری کا خلا دیکھا گیا۔ اس سے قبل اس نوعیت کا منظر آخری بار تھا اگست 2016 میں دیکھا گیا تھا۔

درایں اثنا جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیر ماجد ابو زاہرہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ جب سیارے اپنی گردش کے دوران زمین پر ہمارے نقطہ نظر سے آسمان میں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں مگرعام طور پر ان کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں سیاروں کے درمیان 0.5 ڈگری سے 9 ڈگری تک افقی فاصلہ دکھائی دیتا ہے۔ گردش کرتے ہوئے بعض اوقات یہ سیارے ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔ سال 2020 میں مشتری اور زحل کے ملاپ میں ہوا جب وہ 0.1 ڈگری سے کم فاصلے پرلگ رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زہرہ اور مشتری کا ملاپ سال میں ایک بار ہوتا ہے لیکن اس سال دونوں سیارے عام طور پر اس سے کہیں زیادہ قریب نظر آئے۔ کیونکہ دیکھنے والا ان دونوں سیاروں کو کھلی آنکھوں سے ایسے دیکھے گا جیسے وہ ایک دوسرے کو چھو رہے ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زہرہ اور مشتری کا ملاپ صرف ظاہری ہے کیونکہ زہرہ کا مدار زمین کے مدار سے زیادہ سورج کے قریب ہے اور مشتری کا مدار بہت دور ہے کیونکہ یہ 600 ملین کلومیٹر سے زیادہ ایک دوسرے سے فاصلے پر ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان نقطہ نظر حقیقی نہیں ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ زمین، زہرہ اور مشتری تقریباً خلا میں اور نظام شمسی کے ایک ہی طرف جڑے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں