شامی صدربشارالاسد کی تہران میں ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے صدربشارالاسد نے اتوار کے روز تہران کا غیرعلانیہ دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شامی صدر سے ملاقات میں خامنہ ای نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری لانے پر زوردیا ہے۔

خامنه ای و بشار اسد
خامنه ای و بشار اسد

ایرانی سپریم لیڈر کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کوپہلے سے زیادہ بہتربنانے کی کاوشیں کی جانا چاہییں۔

انھوں نے کہاکہ ’’آج شام عالمی سطح پر جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ ’’احترام اور وقار‘‘کا مالک ملک بن چکاہے۔شام جنگ سے پہلے کے جیسا نہیں ہے۔اگرچہ جنگ سے پہلے کوئی تباہی نہیں ہوئی تھی لیکن شام کا احترام اور وقار ماضی کے مقابلے میں اب بہت زیادہ ہے اور ہر کوئی اس ملک کو ایک طاقت کے طور پردیکھتا ہے‘‘۔

بشارالاسد نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور شام کے درمیان ’’تزویراتی تعلقات‘‘نے اسرائیل کو’’خطے پر حکمرانی‘‘سے روک دیا ہے۔

واضح رہے کہ 2011ء میں شام میں جنگ کے آغاز کے بعد بشارالاسد کا ایران کا یہ دوسرا دورہ ہے۔اس سے پہلے 2019ء میں انھوں نے ایران کا پہلا دورہ کیا تھا۔

ایران شام میں تنازع کے آغازسے ہی بشارالاسد کا سب سے بڑا اتحادی رہا ہے اور اس نے ان کی حکومت کی پشتیبانی کے لیے مختلف ملیشیاؤں کے ہزاروں جنگجوؤں اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کو جنگ زدہ ملک بھیجا تھا اور وہ شامی صدر کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے گروپوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شامی صدرایک روزہ دورہ مکمل کرکےتہران سے واپس شام روانہ ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں