اردن کے شاہ عبداللہ نے شہزادہ حمزہ کی نقل وحرکت اورابلاغ پرپابندی عاید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ حمزہ کی نقل و حرکت، رہائش گاہ اور مواصلات پر پابندی عاید کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔

اردن کےسرکاری خبررساں ادارے بطرا نے جمعرات کو خبردی ہے کہ شاہ عبداللہ نے شاہی خاندان کے قانون کے تحت تشکیل دی گئی کونسل کی طرف سے 23دسمبر کو پیش کردہ سفارش کی منظوری دے دی ہے اور اس کے بعد شہزادہ حمزہ پرپابندی کا شاہی حکم جاری کیا ہے۔

واضح رہے کہ شہزادہ حمزہ بن الحسین نے مارچ میں خود کے شہزادے کے خطاب سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔اردن کے تخت کے سابق وارث شہزادہ حمزہ پر گذشتہ سال غیرملکی محرک کی بنا پرایک سازش کے ذریعے بادشاہت کوغیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

شہزادہ حمزہ نے اپنے آفیشل ٹویٹراکاؤنٹ ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’انھوں نے اپنا خطاب ترک کردیا ہے کیونکہ ان کی اقدارہمارے اداروں کے نقطہ نظر، رجحانات اور جدید طریقوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں‘‘۔

شاہ عبداللہ دوم اور حمزہ دونوں مرحوم شاہ حسین کے بیٹے ہیں۔انھوں نے 1999ء میں اپنی موت سے قبل قریباً نصف صدی تک اردن پر حکومت کی تھی۔

شاہ عبداللہ نے تخت نشین ہونے کے بعد شہزادہ حمزہ کو اپنا ولی عہد مقررکیا تھا لیکن 2004ء میں انھیں اس منصب سے محروم کردیا تھا۔

اردن کے شاہی محل کے مطابق شہزادے نے فروری میں ایک بیان میں مبیّنہ سازش میں اپنے کردار پرمعذرت کی تھی۔ان پرگذشتہ سال مملکت کو غیرمستحکم کرنے کی سازش میں ملوّث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔اس کے بعد اپریل 2021ء میں انھیں گھر پرنظربند کردیا گیا تھا۔اس وقت ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں