عراق کے اسرائیل سے تعلقات معمول پرلانے کی کوشش جُرم قراردینے کا قانون منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی پارلیمان نے جمعرات کو ایک قانون کی منظوری دی ہے۔اس کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر پابندی عاید کردی جائے گی۔

عراقی پارلیمان نے یہ قانون ایسے وقت میں منظورکیا ہے جب متعدد عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی اور سیاسی تعلقات قائم کر لیے ہیں۔

عراقی پارلیمان ملک کے نئے صدرکے انتخاب اور نئی حکومت کی تشکیل سمیت کسی اور اہم معاملے پر اجلاس بلانے سے ابھی تک قاصر رہی ہے جس سے ملک میں جاری سیاسی تعطل طویل ہوچکا ہے۔

عراق نے 1948ءمیں اسرائیلی ریاست کو اس کے قیام کے بعد سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔عراقی شہری اسرائیل میں نہیں جاسکتے اورعراقی کمپنیاں اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں کرسکتی ہیں لیکن نیاقانون ان سب پر مستزاد ہے۔اس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کسی کوشش ہی کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ قانون بااثر شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر نے تجویز کیاتھا۔ان کی جماعت نے،جو امریکا اوراسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کی شدیدمخالف ہے، گذشتہ سال اکتوبر میں منعقدہ انتخابات میں پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔

ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا عصائب اہل الحق کی عراقی پارلیمان میں نمائندگی کرنے والےشیعہ رکن حسن سلیم نے کہا کہ اس قانون کی منظوری نہ صرف عراقی عوام بلکہ فلسطین اورلبنان میں حزب اللہ کے ہیروز کی فتح ہے۔

مقتدیٰ الصدر کی پارٹی کے قانون سازوں نے کہا کہ انھوں نے ایرانی حمایت یافتہ حریف جماعتوں کے کسی بھی دعوے کوروکنے کے لیے قانون کی تجویز پیش کی ہے کہ مقتدیٰ الصدراہلِ سُنت اور کردوں کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیں جن کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات ہوسکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت بعض خلیجی ریاستیں اسرائیل کے ساتھ ان مشترکہ خدشات کے پیش نظر تعلقات قائم کررہی ہیں جو ایران سے خطے کو لاحق ہوسکتے ہیں۔

امریکا کے قریبی اتحادی سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی صورت حال میں تعلقات کو معمول پر لانے کی یہ شرط عاید کی ہے کہ 1967 کی مشرق اوسط جنگ میں اسرائیل نے جن عرب فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا،ان پر فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ پوراکیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں