عراق:2021 میں بغدادمیں بم دھماکے کے داعشی منصوبہ سازکو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں ایک عدالت نے پیر کے روز داعش گروپ کے ایک رکن کو سزائے موت سنائی ہے۔اس نے 2021 میں بغداد کے ایک پرہجوم بازار میں بم حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔اس بم دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ 2017ء میں داعش کے اعلان شکست کے بعد شہر میں پہلا بڑا خودکش بم دھماکا تھا۔ عراقی حکومت نے 2017 کے آخرمیں انتہا پسند گروہ کی شکست کااعلان کیا تھا۔اس کے بعد اس بم دھماکے نے شہر کے نسبتاًپرسکون دور کا خاتمہ کیا۔

عراقی حکام نے اس شخص کا نام نہیں لیا۔اسے جنوری 2021 میں بغداد کے طیران اسکوائر کے بازارمیں دو خودکش بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کامرتکب پایا گیا تھا اوراس میں 110 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔سپریم عدالتی کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ بغداد کی ایک عدالت نے بنیادی حملے کے’’بنیادی مجرم‘‘کو سزا سنائی ہے۔اس نے 2012ء سے داعش کا حصہ ہونے اور دونوں خودکش حملہ آوروں کو دھماکا خیز مواد سے لیس کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

اس وقت وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے دھماکا خیزمواد کی بیلٹ اڑانے سے پہلے خود کے بیمارہونے کا ڈراما کیا تھا اور ا س کے اس دعوے پرہجوم اس کی جانب متوجہ ہوگیا تھا۔

اس کے دھماکے بعد جب متاثرین کی مدد کے لیے مزید لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوئے تو دوسرے خودکش بمبار نے اپنا دھماکا خیز مواد بند کردیا تھا۔

عراق میں عام طور پر دہشت گردی یا قتل کے مقدمات میں اکثرسزائے موت دی جاتی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2021 میں سزائے موت کی رپورٹ میں عراق کو پھانسی دینے والے ممالک میں دنیا بھر میں سرفہرست قرار دیا تھا۔

لندن میں قائم انسانی حقوق گروپ نے 2021 میں عراق میں 17 پھانسیاں ریکارڈ کی تھیں اور یہ تعداد گذشتہ سال کی 50 پھانسیوں سے کم ہے لیکن اس نے کہاکہ سزائے موت سنانے اور پھانسیاں لگانے میں 2020 کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اپریل میں دو مقدموں میں آٹھ افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی، چار کو کار بم دھماکے پر اور چار کو قتل کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ عراقی دارالحکومت میں داعش نے آخری بڑا حملہ جولائی 2021 میں کیا تھا جب صدرشہر کے نواحی علاقے الوہیلات مارکیٹ میں ایک بم پھٹ گیا تھا۔اس میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جنوری میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ داعش گروپ نے عراق میں مسلسل حملے کرنے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے جس میں مارو اور بھاگ جاؤ کارروائیاں، گھات لگا کر حملے اور سڑک کنارے بموں کے حملے شامل ہیں۔

شمالی عراق میں گذشتہ ہفتے تین نوعمر بچوں اور تین پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔وہ فصلوں میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کررہے تھے۔عراقی حکام نے داعش پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں