سعودی عرب: سیاحوں پر ماضی کے دریچے وا کرنے والا ثقافتی گاؤں بادیہ بنی عمرو

اسلامی عبارتوں سے مزین پتھروں والا گاؤں بارہ سو سال پرانا ہو سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلامی نوادرات اور تحریروں میں مہارت رکھنے والی سعودی محققہ "مشاعل عسیری" نے عسیر کے علاقے النماص گورنری میں بادیہ بنی عمرو میں پتھروں پراسلامی نقوش اور عبارات پر تحقیق اور سیر حاصل بحث کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدیوں پہلے پتھروں پر لکھی گئی مذہبی عبارتوں سے اس دور میں اس علاقے کے لوگوں کی مذہبی سرگرمیوں کا پتا چلتا ہے۔ مشاعل نے ان پتھروں پر موجود عبارتوں کو تصاویر کی شکل میں محفوظ کر کے انہیں دستاویزی شکل دی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے مشاعل عسیری نے کہا کہ بادیہ بنی عمرو کے علاقے کے پتھروں پر لکھی گئی ابتدائی اسلامی عبارتوں کو مملکت سعودی عرب میں باقی سب سے اہم مادی یادگاروں میں سے ایک سمجھتی ہوں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بلاشبہ یہ تحریریں معلومات اور تاریخی حقائق کا ایک بڑا اور اصل ذریعہ ہیں جن کے اصل ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

مختلف تاریخی ادوار کی یادگاریں

انہوں نے کہا کہ بادیہ بنی عمرو مملکت کے جنوب مغرب میں ایک اہم ترین آثار قدیمہ کی جگہوں میں سے ایک ہے جو مختلف تاریخی ادوار سے تعلق رکھنے والے بہت سے نوادرات کی موجودگی کوظاہر کرتی ہے۔ اس کے ارد گرد کئی دیگر قدیم یادگاریں بھی دریافت کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے ایک فیلڈ سروے کے ذریعے میں نے ان مقامات پر موجود متعدد ابتدائی اسلامی تحریروں کو ریکارڈ اور دستاویز کیا۔ بادیہ بنی عمرو میں البوارہ اور جبل عیمہ اہم ترین مقامات قرار دیےجاتے ہیں جہاں پتھروں پر جگہ جگہ عبارتیں موجود ہیں اوریہ پتھر دیکھنے والوں کو ماضی میں لے جاتے ہیں۔

اسلامی تحریروں کے مجموعے کے علاوہ نوادرات اور قومی ورثے کا النماص عجائب گھربھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ یہ عجائب گھر مقامی باشندوں، زائرین اور مسافروں کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

آثار قدیمہ اور قدرتی عجائب گھر سے لگتا ہے کہ یہ علاقہ کسی زمانے میں مسافروں کی گذرگاہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں کے پتھروں پرموجود عبارتوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں یہاں سے مسلمان مسافروں اور سیاحوں کا گذر رہا ہے۔ یہ عبارتیں اسلام کے ابتدائی دور کے عربی رسم الخط کو ظاہر کرتی اور اس دور کی مذہبی رسومات کی نشانی ہیں۔

تحریروں کے سائنسی تجزیے کی ضرورت

مشاعل عسیری نے کہا کی بادیہ بنی عمرو میں موجود ان نقوش پرکوئی خاص سائنسی تحقیق نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خطے میں موجود ان تحریروں کا مطالعہ کرنے، انہیں دستاویزی شکل دینے، ان کے متون کو پڑھنے، ان کے مضامین کا تجزیہ کرنے اور مملکت کے اندر اور باہر کی اس دور کی ایسی تحریروں کے ساتھ ان کا تقابل کرنے کی ضرورت پرزور دیا۔ تاکہ ان کی زمانی ترتیب کا پتا چل پائے گا۔

مشاعل عسیری کا کہنا ہے کہ تحریروں کے زیادہ تر نصوص غیر منقطع ہیں، اوربعض حروف پر نقطے نہیں ہیں۔ کچھ تحریروں پر مہینے یا سال کا ذکر ملتا ہے۔ وہاں سے ان نقوش کی اسلامی اور عربی تاریخ کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ یہ عبارتیں دوسری صدی، تیسری اور چوتھی صدی ھجری کی ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تحریروں کے مواد کے مطالعہ اور تجزیہ نے لوگوں کے ناموں، ان کے نسب، عرفی ناموں، مذہبی فارمولوں اور دعاؤں کی شناخت، ہجے کے مظاہر کا پتا چلتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پتھروں پرموجود تحریروں کا مطالعہ تحریری اور آرائشی خصوصیات کو ظاہر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں