سعودی عرب نے حوثی ملیشیا کے معاون 8 افراد اور 11 ادارے بلیک لسٹ کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کو سعودی عرب میں صدارت عامہ برائے ریاستی سلامتی نےیمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی حمایت کرنے پر 8 افراد اور 11 اداروں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے کہا کہ یہ فیصلہ حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کرنے کے علاوہ یہ فیصلہ مُملکت کی وزارت داخلہ کی طرف سے 6/5/1435 ھ کو جاری کردہ بیان کے بعد آیا ہے۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ سعودی عرب پُرعزم ہے اور وہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔ اس کو مالی مدد فراہم کرنے والے سرکردہ افراد اور اداروں کو نشانہ بنائے گا اور تشدد کو ہوا دینے کے لیے یمن اس کے عوام اور لوگوں کوخطرے میں ڈالے گا۔ حوثی مفادات اور خطے کوغیرمستحکم کرنے،بین الاقوامی نیویگیشن میں رکاوٹ پیدا کرنے اور انسانی مصائب کو طول دینے کی کوشش کررہی ہے۔

جن افراد اور اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے سعودی عرب میں موجود ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔ اب تک سعودی عرب کی طرف سے حوثیوں کی مدد کے الزام میں منجمد کردہ شخصیات میں 19 اہم نام شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے عاید کردہ پابندی کے بعد مالیاتی اداروں، پیشوں کے ذریعے کسی بھی قسم کا براہ راست یا بالواسطہ لین دین کرنا ممنوع ہے۔

ان افراد کی فہرست میں صالح بن محمد بن حمد بن شاجع (یمنی) شامل ہیں جو دہشت گرد "القاعدہ" تنظیم کے ساتھ منسلک اور حوثیوں کے ساتھ تعاون میں ملوث ہے۔ حوثی دہشت گرد ملیشیا کو مالی مدد، ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرتا رہا ہے۔

بلیک لسٹ ہونے والوں میں نبیل بن عبداللہ بن علی الوزیر جو یمنی نژاد ہے جو ابکرکارپوریشن برائےتیل کمپنی قائم کی ہے۔

اس فہرست میں اسماعیل بن ابراہیم الوزیر (یمنی) بھی شامل ہیں۔ کئی کمپنیوں کا انتظام کرتے ہیں جو دہشت گرد "حوثی" ملیشیا کے لیے رقم اور تیل کی اسمگلنگ میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں