ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے اعتراف کے بعد کہ پاسداران انقلاب کے ایک افسر کوایران کے اندر اغوا کیا گیا تھا اور اس سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے بھی موساد کی تفتیش کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یداللہ خدمتی نامی عہدیدارکو اغوا کے بعد پوگچھ کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس نے اس افسر کو "ان عناصر میں سے ایک قرار دیا ہے جو موساد سے وابستہ ہیں۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کاکہنا ہے کہ اس طرح کی خبروں کا مقصد ایرانی پاسداران انقلاب کی ساکھ اور صلاحیت کو نقصان پہنچانا ہے۔
اس سے قبل فارسی بولنے والے بین الاقوامی چینل "ایران انٹرنیشنل" نے ید اللہ خدمتی کے اعترافات کی ایک ویڈیو شائع کی تھی اور کہا تھا کہ "ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سرکردہ اہلکار" سے ایران کے اندر موساد کے ایجنٹوں نے پوچھ گچھ کی تھی۔ اس نے اعتراف کیا تھا کہ موساد کے مبینہ تفتیش کاروں کو اس نے معلومات بھی فراہم کی تھیں۔ مسٹر خدمتنی نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شام، عراق، لبنان اور یمن میں ایرانی اسلحہ پہنچانے کے عمل میں شامل رہا ہے۔ اعترافی ویڈیو میں اس کا کہنا ہے کہ وہ علی اصغر نوروزی کی قیادت میں پاسداران انقلاب کے "لاجسٹک یونٹ" کا رکن ہے۔
جب اس نے اعتراف کیا کہ اس افسر سے ایرانی سرزمین پر تفتیش کی گئی تھی اور اس میں موساد کا ہاتھ تھا، تو ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے خدمتی کو اغوا کیا وہ "ٹھگ اور کمینے تھے۔ "
اس سے پہلے ایرانی حکام نے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنٹوں اور ایران میں کارروائیاں کرنے والے ایجنٹوں کو "ٹھگ اور کمینے" قرار دیا تھا۔
"ارنا" خبر رساں ایجنسی نے صحافی آمنہ سادات ذبیح بور کی تیار کردہ ایک ٹیلی ویژن رپورٹ پر بھی انحصار کیا۔آمنہ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سے پوچھ گچھ کرنے والے موساد کے مبینہ عناصر کو گرفتار کیا گیا اور اس کے ماسٹر مائینڈ اسرائیلی افسر کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا۔
اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ’موساد‘ کی جانب سے ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان سے پوچھ گچھ کے بارے میں رپورٹس شائع کی گئی ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک تنظیم فیلق القدس کے عہدیدار منصور رسولی کاایک ویڈیو بیان بھی نشر کیا گیا۔ ایران انٹرنیشنل چینل کی طرف سےنشر کردہ اس بیان میں مسٹر رسولی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ترکی، فرانس اور جرمنی تین قاتلانہ آپریشنز میں شامل رہے ہیں تاہم "نور نیوز" کی ویب سائٹ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے اس تفتیش سے متعلق رپورٹ کو "میڈیا پروپیگنڈہ" قرار دیا تھا۔