عراق کے اہم جنوبی شہر بصرہ میں مسلح شیعہ گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان مرنے والوں میں سے دو کا تعلق مقتدیٰ الصدر کے حامیوں سے ہے۔
عراق میں بد امنی کے واقعات پیر کے روز ا وقت پھوٹ پڑے تھے جب مقتدیٰ الصدر نے خود کو احتجاجا سیاست سے الگ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم اس روز فسادات کا مرکز بغداد تھا۔
مقتدیٰ الصدر معروف شیعہ سکالر ہیں ۔ ان کے بارے میں آج کل یہ تاثر ہے کہ وہ ایران مخالف موقف کے ساتھ ہیں اور ان کے مقابل ایران کے حامی شیعہ کھڑے ہیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں عراق میں ہونے والے عام انتخابات سے سیاسی اختلافات میں پیدا ہونے والی شدت کے باعث نئے وزیر اعظم اور صدر کا انتخاب ممکن نہ ہو سکا ہے۔
اس صورت حال نے بالآخر الصدر کو سیاست سے دور چلے جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سیاست سے علیحدگی کے اعلان سے عراق میں جاری سیاسی کشیدگی کی فضا از سر نو تصادم میں تبدیل ہو گئی ہے۔ جمعرات کے روز بصرہ میں بھی اسی سبب ہونےوالے تصادم میں چار لوگ مارے گئے ہیں۔
پیر کے روز شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں یہ اب تک کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ سکیورٹی سے متعلق حکام کا کہنا ہے بصرہ میں تازہ تصادم شہر کے مرکز میں ہوا۔ اس دوران الصدر کے دوحامی بھی مارے گئے۔ ان دونوں کا تعلق الصدر امن بریگیڈ سے تھا۔ ابھی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
-
سعودی وزیر خارجہ کی عراقی ہم منصب کو عراق کے استحکام و سلامتی کی حمایت کی یقین دہانی
سعودی عرب وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین کے ساتھ ...
مشرق وسطی -
عراق میں جاری محاذ آرائی سے بچنے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں:سعودی عرب
سعودی عرب نے عراق کی تمام سیاسی جماعتوں اور قوتوں پر زور دیا ہےکہ وہ عراق، اس کی ...
مشرق وسطی -
عراقی صدر ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے قبل ازوقت انتخابات کے حامی
عراقی صدربرہم صالح نے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے قبل ازوقت پارلیمانی ...
مشرق وسطی