عراقی پارلیمان کوتحلیل کرنے کا آئینی اختیار نہیں:عدالتِ عظمیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ اس کے پاس پارلیمان کو تحلیل کرنے کا آئینی اختیار نہیں ہے۔اس نے یہ وضاحت طاقتورعالم دین مقتدیٰ الصدر کی پارلیمان کو تحلیل کرنے کے مطالبے کے بعد کی ہے۔انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ نے ان کے مطالبے پر عمل نہیں کیا تو اس سے ملک میں مزید بدامنی پیدا ہو جائے گی۔

عدالت نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر پارلیمان اپنے فرائض انجام نہیں دے رہی ہے تو اسے اس صورت میں خود کو تحلیل کردینا چاہیے۔

مقتدیٰ الصدر نے گذشتہ ماہ بغداد میں خونریز جھڑپوں کے بعد عدالتِ عظمیٰ سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ پارلیمان کو تحلیل کردے اور ملک میں جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کے لیے نئے انتخابات کرائے جائیں۔

عراق کی پارلیمنٹ ایک طاقتور ادارہ ہے۔ وہ صدر اور وزیراعظم کا انتخاب کرتی ہے اور اسے تمام قوانین کی منظوری دینے کا اختیار ہے مگر اس وقت وہ عضو معطل ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں منعقدہ عام انتخابات کے بعد سے عراق میں نئی حکومت تشکیل نہیں پاسکی ہے جس نے ملک میں ایک وسیع تر سیاسی بحران کو جنم دیا ہے۔ دارالحکومت بغداداور بعض جنوبی شہروں میں سڑکوں پرخونریزتشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے اگست کے آخر میں سیاست چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد ان کے مشتعل حامیوں نے بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں واقع سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا تھا۔اس دوران میں ان کاایران کی حمایت یافتہ فورسزاورعسکریت پسند گروہوں کے ساتھ مشین گنوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہواتھا اور فریقین نے ایک دوسرے پر راکٹ فائر کیے تھے۔ان جھڑپوں میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں