روس کی تحریک کے بعد ترکی اور شام کے روابط میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ نے گذشتہ چند ہفتےکے دوران میں دمشق میں اپنے شامی ہم منصب کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔یہ شام کی جنگ کی دومتحارت ریاستوں کے درمیان برف پگھلنے کی علامت ہے اور یہ نئی پیش رفت روس کی حوصلہ افزائی اور تحریک کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

دمشق سے وابستہ علاقائی ذرائع نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کے سربراہ ہاکن فدان اور شامی انٹیلی جنس کے سربراہ علی مملوک نے حال ہی میں شامی دارالحکومت میں ملاقات کی ہے۔

دو ترک حکام اور علاقائی ذرائع کے مطابق یہ روابط روسی پالیسی میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ ماسکو یوکرین میں طویل تنازع کے لیے خود کومضبوط بنانا اور شام میں بھی اپنی پوزیشن محفوظ بنانا چاہتا ہے جہاں اس کی افواج نے 2015 سے صدر بشارالاسد کی پشتیبانی اور معاونت کی ہے۔

انقرہ اور دمشق کے درمیان کسی بھی طرح تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش ایک دہائی سے جاری شامی جنگ کی نئی شکل ابھرے گی۔صدر بشارالاسد روس اور ایران کی مدد سے ملک کے باقی حصوں میں بغاوت کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں لیکن شمال مغرب میں شامی باغیوں کو ان کے آخری بڑے علاقائی گڑھ میں برقرار رکھنے میں ترکی کی حمایت بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے۔

لیکن شمالی مغربی شام میں ایسی کسی مفاہمت کو بڑی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ان میں باغی جنگجوؤں اور لاکھوں شہریوں کی قسمت بھی شامل ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے بشارالاسد کی حکومت کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے دمشق کے نواحی علاقوں سے ملک کے شمال مغرب کی طرف بھاگ جانے پر مجبور ہوگئے تھے۔

نیٹو کے رکن ملک ترکی کے شام کے شمال مغرب میں برسرزمین فوجی موجود ہیں۔بشارالاسد انھیں قابض افواج سمجھتے ہیں۔

ترکی کے ایک سینئر عہدہ دار اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں کے دوران میں صدر طیب ایردوآن کے قریبی معتمد میں سے ایک فدان اور مملوک نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ بالآخر کس طرح ملاقات کر سکتے ہیں۔

ترک عہدہ دار نے بتایاکہ روس چاہتا ہے کہ شام اور ترکی اپنے مسائل پر قابو پالیں اور کچھ معاہدے طے کریں۔ جو ترکی اور شام دونوں کے مفاد میں ہوں لیکن ایک بڑا چیلنج ترکی کی دمشق کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں شامی باغیوں کو شامل کرنے کی خواہش ہے۔

روس کے مؤقف میں تبدیلی

ترک سکیورٹی عہدہ دار نے کہا کہ روس نے یوکرین پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے شام سے بتدریج کچھ فوجی وسائل واپس بلا لیے ہیں اور ترکی سے کہا ہے کہ وہ شام میں "سیاسی حل میں تیزی" لانے کے لیے اسد کے ساتھ تعلقات معمول پرلائے۔

دمشق کے اتحادی ذرائع نے بتایا کہ روس نے شام کو مذاکرات میں داخل ہونے پر مجبور کیا ہے کیونکہ ماسکو کو یوکرین میں افواج کی دوبارہ تعیناتی کرنا ہوگی کیونکہ روسی افواج نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں یوکرین میں میدان جنگ میں حیرت انگیز نقصانات برداشت کیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ حالیہ ملاقاتوں میں اگست کے آخر میں فدان کا دمشق کا دو روزہ دورہ بھی شامل ہے۔اس میں اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے لیے فضا سازگار بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ترکی کے اعلیٰ عہدہ دار کے بقول انقرہ شام میں ایرانی یا ایران کی حمایت یافتہ افواج کو نہیں دیکھنا چاہتا جو پہلے ہی شام کے حکومت کے زیرانتظام علاقوں میں وسیع پیمانے پر تعینات ہیں اور روسی فوجیوں کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلا کوپُرکرنا چاہتی ہیں جبکہ روس ایرانی اثرو رسوخ کو بڑھانا نہیں چاہتاہے۔

خطے میں مقیم ایک سفارت کار نے بتایا کہ روس نے رواں موسم گرما کے اوائل میں شام کے جنوب سے محدود تعداد میں فوج وں کو نکال لیا تھا، خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں سے اپنے دستے واپس بلا لیے تھے اور وہاں بعد میں ایران کی اتحادی افواج کو تعینات کردیا گیا تھا۔

اگرچہ فدان اورعلی مملوک نے گذشتہ دو سال کے دوران میں وقفے وقفے سےبات کی ہے لیکن حالیہ ملاقاتوں کی رفتار اور وقت رابطوں کے لیے ایک نئی فوری ضرورت کا اشارہ دیتا ہے۔

دمشق سے وابستہ علاقائی ذرائع اور مشرق اوسط میں اسد نواز دوسرے سینئر ذرائع نے بتایا کہ ترکی اور شام کے روابط میں تفصیل بتائے بغیر بہت پیش رفت ہوئی ہے۔ایک اور علاقائی ذریعے نے بتایا کہ ترکی اور شام کے درمیان تعلقات میں برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے اور وہ ’’افہام وتفہیم کا ماحول پیدا کرنے کے مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

روسی وزارت خارجہ نے فوری طور پر ان تبصروں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ترکی کی انٹیلی جنس اور وزارت خارجہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بشارالااسد کو دہشت گرد قراردے رکھا ہے اور کہا ہے کہ شام میں ان کے عہدے پر رہنے سے کوئی امن قائم نہیں ہو سکتا جبکہ اسد نے ایردوآن کو شامی سرزمین ’’چوری‘‘کرنے کا موردالزام ٹھہرایا تھا۔

لیکن گذشتہ ماہ لہجے میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا تھا کہ وہ شام کے ساتھ بات چیت اور سفارت کاری سے کبھی انکار نہیں کرسکتے۔ ترک صدر کواگلے سال سخت انتخابات کا سامنا ہے۔ان میں ایک اہم مسئلہ اب ترکی میں موجود 37 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں سے کچھ کو واپس بھیجنا ہوگا۔

ترکی اور شام کے رابطے صدرایردوآن اور روسی صدر ولادی میر پوتین کے درمیان ملاقاتوں کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ان میں ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات ہوئی ہے۔

جولائی میں ترکی نے اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ معاہدے کی منظوری میں روس اوریوکرین کی مدد کی تھی۔اس کے نتیجے میں یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اناج کی برآمدات پر ناکا بندی ختم کردی گئی تھی۔یہ ناکا بندی 24 فروری کو روس کے اپنے پڑوسی ملک پر حملے کے بعد سے جاری تھی۔

ماسکو کے حالیہ دورے کے بعدصدرایردوآن نے کہا کہ پوتین نے ترکی کو شام کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحد پر دمشق سے تعاون کی تجویز دی ہے۔ان علاقوں میں ترک افواج نے متعدد مرتبہ جارحانہ کارروائی کی ہے۔

ترکی امریکاکی حمایت یافتہ کرد فورسز کے خلاف ایک اور جارحیت شروع کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔انقرہ کردملیشیا کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے مگرروس نے شام میں اس طرح کی دراندازی کی مخالفت کا اشارہ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں