ترکیہ کا شامی حکومت کی فوجی چوکی پر حملہ، تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شمالی علاقے میں ترک فوج نے اتوار کو اسدی فوج اور کرد ملیشیا کے زیرقیادت فورسز کے زیرانتظام چوکیوں پرفضائی حملے کیے ہیں جن میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ کردوں کے زیرقبضہ سرحدی قصبے کوبانی(عین العرب) کے قریب واقع شامی فوج اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ٹھکانوں کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا گیا ہے۔تینوں مہلوکین نے شامی فوج کی وردی پہن رکھی تھی۔

رصدگاہ کے مطابق کئی دیگر جنگجو زخمی ہوئے ہیں ۔ان میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ان حملوں سے قبل کوبانی کے نزدیک سے ترک فورسز پر سرحد پار گولہ باری کی گئی تھی۔

گذشتہ ماہ شامی حکومت نے کہا تھاکہ وہ ترکیہ کی جانب سے اپنی افواج کے خلاف براہ راست حملوں کا جواب دے گی۔شام کے سرکاری خبررساں ادارے سانا کے مطابق یہ انتباہ اگست کے وسط میں کوبانی کے نزدیک حکومت کی ایک چوکی پر ترک فوج کے حملے میں کے بعد جاری کیا گیا تھا۔اس واقعہ میں بھی تین شامی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

ترکیہ نے 2016 سے کردفورسزاوردہشت گرد گروہ داعش کو نشانہ بنانے کےلیے سرحدپار سے متعدد جارحانہ کارروائیاں کی ہیں لیکن اس طرح کی کارروائیوں کے نتیجے میں شامی حکومت کے جنگجو شاذونادرہی ہلاک ہوئے ہیں۔

ترک فوج نے 19جولائی کو ایران اور روس کے ساتھ سربراہ اجلاس کے بعد سے شام میں کردوں کے زیر انتظام علاقوں میں اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔اس نے کردملیشیا کے خلاف ایک نئی کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی لیکن ابھی اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا ہے۔

گذشتہ ہفتے شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے کہا تھا کہ ترکیہ اور اس کی حمایت یافتہ فورسزاورکرد ملیشیا کے زیرقیادت مخالفین کے درمیان ’’مسلسل لڑائی‘‘ جاری ہے اور اس دوران میں شام کے شمال میں ترک فوج کے ’’ایک اور زمینی آپریشن‘‘کا خطرہ ہے۔

کمیشن کے سربراہ پاؤلو پنہیرو نے خبردارکیا تھا کہ شام بڑے پیمانے پرکسی نئی لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکتامگراس کے حالات اسی طرف ہی جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں