.

شام کے قریب مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد 36 ہو گئی:انسانی حقوق گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اطلاع دی ہے کہ شام کے ساحل کے قریب لبنان سے مختلف ملکوں کے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 36 ہو گئی ہے۔

آبزرویٹری نے ’العربیہ‘ ٹی وی کو بتایا کہ شام کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کےحادثے کے بد ریسکیوآپریشن میں سوار 20 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔

اس سے قبل جمعرات کو شمالی لبنان سے روانہ ہونے والی کشتی کے حادثے کے بعد شامی حکام کی طرف سے ساحلوں پر 28 لاشوں کی موجودگی کا پتا چلایا تھا۔

شام میں سمندری بندرگاہوں کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر جنرل سامر قبرصلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے کیڈرز اب المنطار کے علاقے اور (جزیرہ) ارواد اور طرطوس کے سمندروں میں ایک کشتی کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آٹھ زندہ بچ جانے والوں کو بچا لیا گیا۔ انہیں طرطوس کے الباسل ہسپتال لے جایا گیا۔

بیان میں زندہ بچ جانے والوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کئی دن پہلے لبنان سے منیہ (شمال میں) سے ہجرت کرنے کے ارادے سے کشتی روانہ ہوئی تھی جس میں کئی ملکوں توں کے مسافر سوار تھے۔

زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اب بھی جاری ہے جس میں ماہی گیر بھی شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کشتی میں کتنے مسافر سوار تھے۔

حالیہ برسوں میں لبنان سے غیر قانونی طور پر ہجرت کرنے کی کوشش دہرائی گئی ہے۔

لبنان میں بگڑتے ہوئے معاشی اور زندگی کے حالات کی روشنی میں سمندری راستے سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ ان کی منزل اکثر قبرص ہے، جو لبنان کے ساحل کے قریب واقع یورپی ملک ہے۔

اس کی شروعات فلسطینی اور شامی پناہ گزینوں سے ہوئی جنہوں نے نئی شروعات کی تلاش میں یہ خطرناک سفر طے کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں