سکاٹ لینڈ میں مثالی ماں کا ایوارڈ جیتنے والی سعودی شہری بدور المطیری کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سکاٹش حکومت نےسعودی عرب کی ڈاکٹر بدور المطیری کو "مثالی ماں" کے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ سکاٹ لینڈ کی سطح پر کسی غیرملکی خاتون کو ملنے والا یہ اعزاز اپنی نوعیت کا پہلا ایوارڈ ہے اور یہ ایوارڈ ایک سعودی خاتون کے حصے میں آیا ہے۔

ڈاکٹر بدور المطیری کو یہ اعزاز ایک سرکاری تقریب میں دیا گیا۔ایوارڈ تقریب کے دوران المطیری کی بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی کمیونٹی سروس میں والدین کی کوششوں کو سراہا۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر بدور المطیری نے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف ماں تک محدود نہیں ہے بلکہ والدین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے دیا گیا ہے۔ تاہم کسی عرب خاتون کو دیا جانے والا یہ پہلا ایوارڈ ہے، البتہ مجموعی طور پریہ پانچواں ایوارڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں یہ اس نوعیت کے دیگر ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔ ان میں ایک ’مثالی باپ‘ کا ایوارڈ ، کرونا وبا کے دوران والدین کی مدد کرنے والی رضا کار ٹیموں کو بھی ایوارڈز دیے گئے۔ انہوں نے اسکاٹش حکومت کی طرف سے اس نوعیت کے ایوارڈز جاری کرنے پراس کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی شرکت اسکاٹ لینڈ میں والدین کے طریقوں، والدین کی معاونت، بات چیت اور مسائل کو حل کرنے کے تربیتی کورس میں شامل ہونے سے شروع ہوئی تھی۔ یہ اس کے لیے اس کورس میں شامل ہونے کا ایک موقع تھا کیونکہ وہاں والدین کی مدد کرنے کے لیے ایسے کوئی کورسز موجود نہیں تھے۔ یہ کورس 3 ماہ کا تھا، جہاں کورس کے اختتام پر ایک ٹیسٹ اور ایویلیویشن ہوتا تھا۔ اس کورس میں ممتاز ٹرینیز کے نام جمع کرائے جاتے تھے اور ایوارڈ کے لیے نامزدگی کئی مراحل سے گزرتی تھی۔ایوارڈ کے لیے نامزدگی کئی مراحل سے ہوتی تھی۔جب میں نے ایوارڈ کے لیے مقابلہ جیتنے کی خبر سنی تو میں حیران رہ گئی۔

جیتنے کی وجہ کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ میں نے اپنی نمائندگی نہیں کی بلکہ اپنے الفاظ سے پہلے اپنے اعمال سے مملکت کی نمائندگی کی کیونکہ ریاست نے اپنی پوری طاقت سے اس کی حمایت کی اور وہ اس کی مستحق ہے کہ ہر ایک مملکت کا نام روشن کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی خواتین اپنے بچوں کی پرورش اسلامی اقدار، محبت، نرمی اور اسلامی جبلت اور مذہب کی اطاعت کے لیے جانی جاتی ہیں۔

ڈاکٹربدورنے مزید کہا کہ وہ جڑواں بچوں سمیت پانچ بچوں کی ماں ہیں، تعلیم کے چیلنجز کے باوجود صرف دیکھ بھال تک محدود نہیں ہیں بلکہ سوشل میڈیا کی موجودگی میں اخلاقی پرورش، تعلیم، اصولوں اور اخلاقیات کے ساتھ ابتدائی عمر سے ہی بچوں کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

اپنے بچوں کی پیدائش سے لے کر وہ اپنے بچوں کی زندگی کے تمام مراحل میں ان کے استفادے کے لیے تربیتی کورسز میں داخل کراتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں