سعودی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی طرف سے اپنی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان، سفیر سنان المجالی نے کہا کہ "وزارت دلچسپی کے ساتھ تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے اوپیک پلس کے فیصلے پر ردعمل اور اس فیصلے سے پیدا ہونے والے تعاملات کی پیروی کر رہی ہے"۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تیل کی منڈیوں کے استحکام اور اس کی ضروریات، رسد اور طلب کے عمل کو ریگولیٹ کرنے اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ سے متعلق ایک تکنیکی مسئلہ ہے اور اس سے تکنیکی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔ اوپیک پلس کے حوالےسے فیصلے سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور مشترکہ مفادات کے تناظرمیں ہونےچاہئیں۔

مجالی نے اس مسئلے کو مملکت اور امریکا کے درمیان براہ راست اور متوازن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سعودی عرب اور امریکا بہت سے شعبوں میں اتحادی اور شراکت دار ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے نومبر میں شروع ہونے والے تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کمی کے اوپیک پلس کے فیصلے پر تنقید کو مسترد کر دیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے اس سے قبل یہ اقدام اتحاد کے بنیادی ہدف پر مبنی ہے، جو کہ مارکیٹ میں استحکام اور اتار چڑھاؤ سے بچنا ہے۔

مملکت نے ان بیانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جس میں بین الاقوامی تنازعات میں اس کے تعصب کی بات کی گئی تھی۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت امریکا کے خلاف سیاسی مقاصد کی بنیاد پر اوپیک پلس کے فیصلے نہیں کرتی۔

سنہ پانچ اکتوبر 2022 کو اجلاس کے اختتام پر اوپیک + کے اراکین نے نومبر میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں