امریکی کمپنیوں کو سعودی بزنس کانفرنس میں شرکت سے روکنے کی بات درست نہیں: جان کربی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ نے اس امر کی دو ٹوک انداز میں تردید کی ہے کہ امریکی کمپنیوں اور امریکہ کی بڑی بڑی کاروباری شخصیات کو سعودی عرب میں منعقدہ سرمایہ کاری کانفرنس 'صحرا میں ڈیواس'میں شرکت سے روکا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں بڑے سرمایہ کاروں کو اسی ہفتے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے امکانات سے آگاہ ہو سکیں اپنے سرمائے کے لیے محفوظ اور منافع بخش ملک میں امکانات پا سکیں۔

ادھر امریکہ سے بعض ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ اامریکی کمپنیوں کو سعودی عرب میں کاروبار کرنے سے روک رہی ہیں اور ان پر دباو ڈال رہی ہیں کہ وہ سعودیہ میں سرمایہ لگانے سے گریز کریں۔

ان رپورٹس کے مطابق امریکہ اوپیک پلس میں امریکی خواہش کے بر عکس تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کے باعث امریکہ سعودی عرب سے ناراض ہے، اسی بارے میں رپورٹرز نے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی سے دریافت کیا تھا کہ اس ہفت ہوئے والی ایک اہم بزنس کانفرنس میں اپنی کمپنیوں کو جانے سے روک رہا ہے۔

اس پر جان کربی نے کہا ' ہمارے پاس امریکی کارپوریٹ لیڈرز کے لیے ایسا کوئی پیغام نہیں ہے۔ یہ ان کے اپنے فیصلے ہو سکتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں اور یہ فیصلے انہیں ہی کرنے چاہییں ۔ '

واضح رہے اوپیک پلس کے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں جوبائیڈن انتظامیہ نے سعودیہ کے بارے میں ایک ابلاغی مہم چلائی اور اس اوپیک پلس فیصلے کا ذمہ دار سعودی عرب قرار دیا گیا ، امریکہ کی طرف سے اس فیصلے کو 'دور اندیشی 'سے عاری فیصلہ قرار دیا گیا تھا۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ' اوپیک کا فیصلہ ایک غلطی تھی اور یہ فیصلہ روس کی طرف جھکاو ظاہر کرتا ہے۔

جواباً میں سعودی عرب نے ان الزامات ک تردید کی اور کہا جوبائیڈن انتظامیہ نے تیل کی پیداوار میں کمی کے لیے کہا تھا یہ نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے مدتی انتخابات کے بعد کی جائے۔'

امریکہ میں ریکارڈ افراط زر اور تیل و گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ڈیموکریٹس کے لیے الیکشن جیت کر کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا مشکل ہو گا۔

اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد امریکہ میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو از سر نو دیکھنے کا مطالبہ بھی سامنے آنے لگا ہے۔ کئی ڈیمو کریٹ کانگریس ارکان نے ایسی کوششوں کے لیے جانے والے ہیں کہ سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل فوری طور پر روک دی جائے۔

دوسری جانب امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ایڈوائزر جیک سیلوان صدر جوبائیڈن عجلت میں کوئی بھی اقدام نہیں کرنا چاہیں گے۔ پیر کے روز جان کربی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ امریکی کمپنیوں کو سعودی بزنس کانفرنس میں جانے سے روکا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں