عرب لیگ کے لیڈروں کا درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

عرب صدوراوراعلیٰ عہدے داروں نے درپیش چیلنجوں اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عرب لائحہ عمل کی اہمیت پرزوردیا ہے اور عرب لیگ کے رکن ممالک کے داخلی معاملات میں غیرملکی مداخلت کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

الجزائر میں منعقدہ عرب سربراہ اجلاس کے دوسرے اور آخری روزسعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے خبردار کیا کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات سے دنیا کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔انھوں نے کہا کہ مشترکہ عرب کارروائی کے مقاصد کے حصول کے لیے یکساں مؤقف اختیارکرنا ضروری ہے۔

عرب لیگ نے الجزائر میں تین سال کے وقفے کے بعد اپنا پہلا سالانہ سربراہ اجلاس منعقد کیا ہے۔کووِڈ-19 کی وَبا کے دوران میں گذشتہ دوسال میں سربراہ اجلاس منعقد نہیں ہوئے تھے اورانھیں معطل کردیا گیا تھا۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان الجزائر میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں گفتگوکررہے ہیں۔
سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان الجزائر میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں گفتگوکررہے ہیں۔

شہزادہ فیصل نے یہ بھی کہاکہ غیرملکی مداخلت کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور ہم دوسروں کی قیمت پربالادستی مسلط کرنے کے نقطہ نظرکو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

انھوں نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کیا جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔یمن کی صورت حال پرتبصرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس ملک میں امن کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔

مصر کے صدرعبدالفتاح السیسی نے اپنے خطاب میں کہاکہ عرب قومی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اورمشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے اور اچھی حکمرانی کے ستونوں کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں اور مسلح ملیشیاؤں کا استیصال کیا جائے اور بین الاقوامی اورعلاقائی طاقتوں کی طرف سے عرب دنیا میں اثرو رسوخ کے زون قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے۔

انھوں نے واضح کیا کہ عرب ممالک کے خلاف خطرات بنیادی طورپر’’غیرملکی علاقائی طاقتوں‘‘ کی مداخلت کی وجہ سے ہیں جنھوں نے تنازعات کو ہوا دی ہے اور بعض عرب ریاستوں پر’’براہ راست فوجی حملے‘‘تک کیے ہیں‘‘۔

کویت کے ولی عہد شیخ مشعل الاحمدالجابرالصباح اور اردن کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ دوم نے صدرالسیسی اور شہزادہ فیصل کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے مشترکہ اور مضبوط عرب کارروائی کی اہمیت پرزوردیا۔

شیخ مشعل نے کہا کہ ہمیں عرب دنیا کو درپیش سنگین خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے مشترکہ عرب لائحہ عمل کو مضبوط بنانا ہوگا۔

انھوں نے بھی عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ دوستانہ تعلقات ممالک کی خودمختاری کے احترام پر مبنی ہونے چاہییں۔

اردن کے ولی عہد نے اس بات پرزوردیا کہ اس وقت دنیا جن بحرانوں کا سامنا کررہی ہے، جیساکہ کووڈ- 19 کی وبااور یوکرین میں جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط عرب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، سیاحت اور زراعت کے شعبوں میں امید افزا صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

سربراہ اجلاس سے فلسطینی صدرمحمود عباس نے بھی خطاب کیا۔انھوں نے اسرائیل پرتنازع کے دو ریاستی حل کوکمزورکرنے کا الزام عایدکیا اور اپنے عوام کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک عرب قانونی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کا دو ریاستی حل کو کمزور کرنے پراصرار اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں، ایسے پہلوہیں جنھوں ہمارے پاس صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کے سواکوئی چارہ کارنہیں چھوڑا ہے۔

دریں اثنا، یمن کی صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کے صدررشاد العلیمی نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت یمن میں جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے حالانکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اکتوبر میں اس کی میعاد ختم ہونے کے بعد توسیع کرنے سے انکار کردیا ہے۔

انھوں نے بتایاکہ حوثیوں نے حال ہی میں حضرموت اور شبوہ کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔وہ یمن کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک میں روزانہ کی بنیاد پر اقتصادی تنصیبات کے لیےخطرہ بن رہے ہیں۔

یمن کے متحارب فریقوں میں حوثی ملیشیا کے زیرقبضہ علاقوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی کے معاملے پراختلافات پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے فریقین اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کی تجدید میں ناکام رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں