اردن میں مہنگے ایندھن کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کے بعد 44 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی سکیورٹی ایجنسی نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف مظاہروں میں ملوّث ہونے کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتارکرلیا ہے۔ان مظاہروں کے دوران میں ایک سینیر پولیس افسر کوگولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

صوبہ معان کے ڈپٹی پولیس چیف کرنل عبدالرزاق الدلابیح جمعرات کے روز الحسینیہ قصبے میں سر پر گولی لگنے سےجاں بحق ہوگئے تھے۔

پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے ایک بیان میں کہاکہ مملکت کے متعدد علاقوں میں فسادات میں حصہ لینے کے الزام میں 44 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور انھیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ صوبوں کو کمک روانہ کردی گئی ہے اور ملک کے جنوب میں واقع معان میں تشدد کے واقعات میں ’’بدمعاشوں اورڈاکوؤں‘‘کا ہاتھ کارفرما ہے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے جمعہ کے روزخبردار کیا تھاکہ ’’جوکوئی بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا،اس سے سختی سے نمٹا جائے گا‘‘۔

وزیر داخلہ مازن الفرایا نے بھی تھا کہ 'سکیورٹی سروسزفائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اورانھیں جلد سے جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے بتایا کہ الحسینیہ میں دو دیگر پولیس اہلکاروں کو بھی گولی مار کر زخمی کر دیا گیاہے۔

اردن کے جنوب میں واقع کئی صوبوں میں ٹیکسی اور ٹرک ڈرائیوروں نے گذشتہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ہڑتال کررکھی ہے۔

ان کے ساتھ بس ڈرائیوروں اور تاجروں نے بھی شرکت کی ہے۔انھوں نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گذشتہ بدھ کواپنی دکانیں بند رکھی تھیں۔اس ہفتے کے دوران میں مظاہرین نے جلتے ہوئے ٹائروں کے ساتھ سڑکیں بند کی ہیں اور کچھ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ان کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت اردن میں ایندھن کی قیمتیں ایک سال قبل کے مقابلے میں قریباً دُگنا ہوچکی ہیں، خاص طور پر ٹرکوں اور بسوں میں استعمال ہونے والے ڈیزل، اورگھروں کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے مٹی کےتیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت نے مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کی پیش کش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں