اسرائیل: نیتن یاہو اور مخالفین کے درمیان اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی سرگرم انجمنوں کے ساتھ حزب اختلاف کی طرف سے کنیسٹ میں چھیڑی جانے والی اسرائیلی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔

پیر کے روز اسرائیلی کنیسٹ [پارلیمنٹ] کے اندر پارٹی بلاکس کے اجلاسوں کے دوران اختلافات اپنے عروج کو پہنچ گئے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہ نماؤں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ "اگر وزیر انصاف یاریو لیون کا منصوبہ، جسے حکومت نے اپنایا اور اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، پر عمل درآمد کیا گیا تو اس کا مطلب اسرائیل کو ایک خطرناک خانہ جنگی میں گھسیٹنا ہوگا۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وزیر انصاف کے منصوبے کے تحت عدلیہ کے ادارے میں کئی جوہری اور بنیادی تبدیلیاں شامل ہیں۔ اس کا مقصد اسرائیلی سپریم کورٹ کے اختیار کو کمزور کرنا اور کنیسٹ کو بل کی توثیق کرنے کا آخری پلیٹ فارم بنانا ہے۔

"نیشنل کیمپ" پارٹی کے سربراہ اور سکیورٹی کے سابق وزیر بینی گینٹز نے نیتن یاہو کو خبردار کرتے ہوئے اسے "برادرانہ جنگ" قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کسی متنازع بل کی منظوری سے پورے اسرائیلی معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کے اثرات کی تمام تر ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عاید ہوگی۔

گینٹز نے اسرائیلیوں بشمول دائیں کی حمایت کرنے والوں اور نیتن یاہو سے اسرائیل میں ہونے والی احتجاجی مہم میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ "یہ مظاہرے نیتن یاہو یا حکومت کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ جمہوریت بچانے اور تباہ کن اور بے لگام قدم کو روکنے کے لیے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "آپ کو ان مظاہروں میں شامل ہونا ہوگا، ورنہ ملک میں زلزلہ آنے والا ہے ۔"

گینٹز کا خیال ہے کہ جاری جنگ سے اسرائیلی معاشرے کے تمام طبقات کو خطرہ ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے اراکین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیون کا نیتن یاہو کی حمایت کا منصوبہ سب سے پہلے وزیر اعظم کے مفاد کے لیے ہے۔

انہوں نے اسرائیلیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو کھائی میں اترنے سے روکیں۔

گھر کے خلاف جنگ

نیتن یاہو اور لیون کے خلاف کنیسٹ کے اندر اپوزیشن کی لڑائی کے علاوہ حکومت اور اس کی انتہائی دائیں بازو کی پالیسی کے خلاف تل ابیب میں تیس ہزار سے زیادہ اسرائیلیوں کی شرکت کے ساتھ شروع ہونے والے بڑے مظاہرے کے بعد عوامی احتجاج کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ اپوزیشن اور حکومت مخالف عوامی حلقے حکومتی پالیسیوں کو انسانی حقوق اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام عاید کرتے ہیں۔"

اس مرحلے پر احتجاجی مہمات لیون کے وزیر انصاف کے طور پر تیار کیے گئے منصوبے پر توجہ مرکوز ہیں، اس کی تفصیلات میں اسرائیلی سپریم کورٹ کو محض ایک رسمی عدالت بناتی ہے، جس کے بارے میں ماہرین اور پارٹی رہ نماؤں نے خبردار کیا ہے کہ درجنوں کیسز سپریم کورٹ سے اسرائیل کی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ کے بین الاقوامی ٹریبونل میں منتقل ہوجائیں گے۔

قانونی ماہرین کے مطابق "لیون کا منصوبہ انسانی حقوق اور شہریوں کے دفاع کی صلاحیت کو متاثر کرے گا۔" "نیشنل کیمپ" کے رکن کنیسٹ گیڈون ساعر نے کہا کہ اسرائیلی حکومت ججوں کی تقرری کی کمیٹی میں اکثریت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ کنیسٹ اور عدلیہ میں حکومت کا مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ "یہاں مسئلہ قانون کے حکام کے درمیان ٹکراؤ کا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑھ کر اسرائیلی شہریوں کے حقوق سے متعلق ہے۔"

وزیر اعظم اور یش عتید پارٹی کے رہ نما یائر لپیڈ نے "جمہوریت کو تباہ کرنے والے منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی متوقع افراتفری" سے خبردار کیا۔ لپیڈ نے کہا کہ "ایک ایسی ریاست جس میں ہر چیز کی اجازت ہوتی ہے جمہوری ریاست ہوتی ہے۔ جہاں اقتدارپر فائز گروپ توازن اور چیک اچانک ختم کردے تو یہ جمہوری ریاست نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی حکومت ہے جس کی بنیادی فکر بغیر کسی مخالفت یا تنازعے کے اقتدار سے چمٹے رہنا ہے۔ یہ طرز عمل گھر کے خلاف جنگ کے مترادف ہے اور میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ جنگ کہاں ختم ہوگی اور اس کے نتائج کیا ہوں گے؟۔

اپنی پارٹی کے بلاک کے ایک اجلاس میں لپیڈ نے مزید کہا کہ "ہم ایک ایسی حکومت کے سامنے ہیں جس کے ساتھ ہم سیاست پر بحث نہیں کرتے، بلکہ کام کرتے ہیں اور اسرائیل کے مستقل وجود کے لیے لڑتے ہیں۔ ایک مشترکہ زندگی کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ حکومت ختم کرنا چاہتی ہے۔"

تمام انتباہات اور دھمکیوں کے باوجود حکومت اور اتحادی جماعتوں کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا بلکہ انہوں نے عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو محدود کرنے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان مظاہروں اور دھمکیوں کو محض حکومت کے خلاف عوام کو اکسانے کی اپوزیشن کی کوشش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ "ہمیں عوام کی طرف سے واضح مینڈیٹ ملا ہے کہ ہمیں انتخابات میں جو وعدہ کیا تھا اس پر عمل کیا جائے، ہم ایسا کریں گے۔ یہ جمہوریت کا جوہر ہے۔ ووٹرز کی مرضی پوری کر رہے ہیں۔ ہم اپنے خلاف یکطرفہ میڈیا مہم سے ڈرنے والے نہیں ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں