عراق کے شہر بصرہ میں منعقدہ 25 ویں خلیجی چیمپئن شپ کے دوران ’خلیج عرب‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر ایرانی احتجاج کے جواب میں سماجی رابطوں کی سائٹس پر بحث جاری ہے۔ اس بحث میں حصہ لینے والے سماجی کارکن ایرانیوں کا بھرپور تمسخر اڑا رہے ہیں۔
ایران کے احتجاجی بیان کے جواب میں حالیہ گھنٹوں میں ہزاروں عراقیوں نے #ArabianGulf ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے جس میں بصرہ میں 25 ویں خلیجی چیمپئن شپ کو "عربی گلف چیمپئن شپ" کا نام دینے کی مذمت کی گئی ہے۔
"ایرانی اشتعال انگیزی"
ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ ایرانی احتجاج کے جواب میں سماجی کارکنوں نے جواب دیتے ہوئے اسے "ایرانی اشتعال انگیزی" قرار دیا۔ ٹویٹر صارفین نے اپنی ٹویٹس کے ذریعے اس بات پر زور دیا کہ اصل اصطلاح "خلیج عرب ہے، خلیج فارس نہیں"۔ ایران کا ’خلیج فارس‘ کا دعویٰ غلط ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی اور عراقی صدر تحریک کے رہ نما مقتدیٰ الصدر کے ان بیانات کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے "خلیج عرب" کی اصطلاح استعمال کی تھی۔
ایران نے بدھ کو عراق میں منعقد ہونے والے علاقائی فٹ بال مقابلوں کے لیے 'خلیج عرب' کے نام کے استعمال پر عراق سے احتجاج کیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کا اصرار ہے کہ پانی کےخطے کو ’خلیج فارس‘ کہا جانا چاہیے اور اس نے بار بار ان ممالک اور تنظیموں کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھایا ہے جو اس کے برعکس حوالہ دیتے ہیں۔
عراق نے جمعہ کو اپنے جنوبی شہر بصرہ میں خطے بھر سے عرب قومی ٹیموں کا خیرمقدم کیا ہے جو سرکاری طور پر ’عرب گلف کپ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سنہ1979ء میں شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب عراق نے دو سالہ مقابلے کی میزبانی کی ہے، جسے عام طور پر ’گلف کپ‘ کہا جاتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر اتوار کو عراقی سفیر کو طلب کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ عراق کے ساتھ ’ہمارے سٹریٹجک، برادرانہ اور گہرے تعلقات ہیں لیکن ہم نے اس مسئلے پر اپنے احتجاج کا واضح طور پر اظہار کیا ہے۔‘
’ہم نے عراق کی طرف خلیج فارس کی عین مطابق اور مکمل اصطلاح کے استعمال کے بارے میں ایران کی عظیم قوم کی حساسیت کی عکاسی کی۔‘
دریں اثنا ایرانی فٹ بال ایسوسی ایشن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ 25ویں خلیجی چیمپئن شپ کے لیے "عربین گلف کپ" کا نام استعمال کیے جانے کی وجہ سے فٹبال کی بین الاقوامی فیڈریشن (فیفا) سے احتجاج درج کرے گی، جو اس وقت بصرہ میں منعقد ہو رہی ہے۔
ٹورنامنٹ کا آغاز گذشتہ جمعہ کو ہوا، جس کی افتتاحی تقریب میں فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے شرکت کی تھی۔
عراق کے انتہائی جنوب میں واقع بصرہ کی گلیوں میں جشن کا سماں تھا اور شہر کی میزبانی میں ہونے والے گلف کپ کے میچوں کو دیکھنے کے لیے پرجوش شائقین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم پہنچی۔ مقابلے میں خطے کے 8 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔