سعودی معیشت

سازگار سعودی معاشی ماحول، نجی شعبہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے: فیصل الابراہیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے معاشی منصوبندی سے متعلق وزیر فیصل الابراہیم نے کہا ہے کہ ' مملکت میں تیل کے علاوہ دیگر کاروباری سرگرمیوں میں نجی شعبہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

پچھلے گیارہ برسوں کے دوران اگر رواں سال کے دوران اس شعبے میں سب سے زیادہ ترقی نہیں ہے تو کم از کم ایسی ضرور ہے کہ جسے نمایاں ترقی کے برسوں میں سے ایک کہا جا سکتا ہے۔ 'وہ ڈیواس میں' ورلڈ اکنامک فورم' کے اجلاس کے دوران ایک پینل میں گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا ' ہم خوش قسمت ہیں کی ویژن 2030 کے ثمرات کوآگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تیل کے علاوہ دیگر شعبے بھی تیزی سے اوپر جا رہے ہیں۔ مالی سال کے دوران تیسری سہ ماہی میں یہ ' گروتھ ' 5،9 فیصد تھی ۔

اس سے قبل دوسری سہ ماہی کے دوران اس سے بھی زیادہ تھی۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہین کہ یہ پچھلے گیارہ برسوں کی سب سے زیادہ سطح نہیں تو کم از کم بہتری کے برسوں میں سے ایک ہے۔

ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 'متنوع معیشت کے اس 'انیشٹو' کو جاری رکھیں گے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ویژن 2030 کے نتائج کو دیکھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں 2022 کا سال بہترین رہا۔ عالمی سطح پر مملکت کو' کامیاب کہانی' کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ' آئی ایم ایف نے 2022 میں سعودی معیشت کو دنیا کی تیز ترین معیشتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ اب 2023 کے لیے اچھی امید ظاہر کی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی کے مطابق اس نئے سال میں ہم افراط زر کی شرح 2،2 فیصد دیکھتے ہیں۔ پچھلے سال کی اوسط شرح 2،6 فیصد رہی تھی۔ ہم نے توانائی کی قیمتوں کو دو سال پہلے منجمد کیا تھا اس سے ہمیں عالمی معاشی چیلنجوں کے دوران بھی نمٹنے کا موقع مل گیا۔

سعودی وزیر نے کہا ' ہماری مالی پوزیشن مستحکم ہے اور ہمارا مالی نظام لچکدار ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں نجی شعبہ بھی مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ حتیٰ کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 250 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں