دو مقدس مساجد کے انتظامات سنبھالنے میں شریک 34 خواتین

ان خواتین کو عورتوں سے متعلق امور میں مقرر کیاگیا، پہلے یہ شعبے بھی مردوں کے زیر انتظام تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب خواتین کی توانائی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ خواتین سعودی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ بنتی ہیں اور کئی دہائیوں سے وہ بعض معاشرتی اور ثقافتی پابندیوں کے تحت معاشی امور پر میں بھرپور طریقے سے شریک نہیں تھیں۔ اب سعودی عرب نے اپنی خواتین کی مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کی تو انہیں حرمین شریفین کی دو مقدس ترین مساجد کے معاملات میں بھی شامل کیا ہے۔ دو مقدس ترین مساجد مسجد حرام اور مسجد نبوی کی انتظامیہ میں اس وقت 34 خواتین شریک ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جنہیں انتظامات میں قائدانہ کردار دیا گیا ہے۔ ان خواتین کو مینجرل عہدے دئیے گئے ہیں۔

دونوں مقدس مساجد کی جنرل پریذیڈنسی نے کہا کہ یہ فیصلہ ادارے کے ان فیصلوں کے ضمن میں کیا گیا ہے جس کے تحت صدارت عامہ دونوں مقدس مساجد کی خدمت کرنے کی اہلیت رکھنے والی خواتین کو موقع فراہم کرتی ہے۔ خیا ل رہے ان خواتین کو خواتین کے امور سے متعلق عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ان عہدوں پر بھی مرد حضرات ہی کی تقرریاں کی گئی تھیں۔

خواتین کے لیے اہم عہدے

صدارت عامہ نے اپنے اکاؤنٹ میں ان اہم عہدوں کے متعلق بتایا جن پر خواتین کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان میں امل بنت محمد ثنیان ہیں جنہیں سائنسی امور اور ویمنز اکیڈمی کے جنرل صدر کے انڈر سیکرٹری کے طور پر لگایا گیا ہے۔ مزنہ بنت عبد العزیز اللحیدان ان سائنسی امور اور ویمنز اکیڈمی کے لئے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ نجلا بنت معيلف الشريف کو انتظامی ، تربیت اور خواتین کی افزودگی کے امور کے لئے اسسٹنٹ انڈر سکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

تھانی بنت سعود العمر ی زبان اور خواتین کے ترجمے کے لئے معاون سیکرٹری ہیں۔ روان بنت عبد العزیز الردادی معاشرتی اور انسان دوست رضاکارانہ خدمات کے لئے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔

اس فیصلے میں ریڈنگ اینڈ ویمن سائنسی خواتین کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر کے طور پر نورہ بنت صیاف العمری کو لگایا گیا ہے۔ خواتین کی تربیت کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر سمر بنت احمد العمری ہیں۔ ایمان بنت محمد الحربی مسجد نبوی ﷺ میں خواتین کی لائبریری کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر ہیں۔ ھند بنت مسعد الجھنی خواتین خواتین کے انتظامی امور کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر ہیں ۔ مروة بنت مصطفى معمر جی سوشل اینڈ گرامینٹی سروسز کی جنرل ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر بن چکی ہیں۔ امل بنت محمد ثنیان کالج میں طالب علموں کے لئے بطور ایجنٹ کام کرتی ہیں۔

دو مقدس مساجد کی قیادت

یاد رہے سعودی عرب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان چلنے والی حرمین ایکسپریس ٹرین کو چلانے کے لیے 32 خواتین کو بھی تربیت دی گئی ہے۔ ٹرین ڈرائیور بننے کے لیے ان 32 خواتین کے بیج کو 12 ماہ تک نظری اور عملی تربیت دی گئی۔

سعودی عرب میں خواتین حج و عمرہ سے متعلق دیگر شعبوں میں بھی بھرپور طریقہ سے کام کر رہی ہیں۔ سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے تحت پروگرامو ں میں سے ایک پروگرام کے ’’ مکہ روڈ‘‘ اقدام کے تحت خواتین پاسپورٹ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ اقدام پانچ ملکوں میں شروع کیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، مراکش اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ اس اقدام کے تحت ان ملکوں کی حکومتوں کے لیے اپنے ہی ہاں حج کے انتظامات کو آسان بنانے کی سعی کی جاتی ہے۔

خواتین تمام شعبوں میں با اختیار

خیال رہے سعودی وزارت برائے امور خارجہ نے سارہ بنت عبد الرحمن السید کو عام سفارتکاری کے لئے وزارت کی انڈر سیکرٹری کے طور پر مقرر کیا تھا۔ سارہ اس سے قبل وزارت خارجہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہ چکی تھیں۔ ا س سے قبل شہزادی ریما بنت بندر کو بھی 2019 میں امریکہ میں سعودی سفیرہ بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد آمال یحیی المعلمی ہیں جنہیں ناروے میں سعودی خاتون سفیر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد خواتین کو مختلف شعبوں میں مقرر کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں