ایران کی اعلیٰ سنی قیادت کا سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ، پاسداران انقلاب پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے ممتاز سنی عالم مولوی عبد الحمید نے جمعے کے روز ایرانی حکام سے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا اور ملک میں پاسداران انقلاب کے کردار پر تنقید کی۔

صوبہ سیستان بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں نماز جمعہ کے خطبہ میں انہوں نے کہا "یہ اچھی بات ہے کہ کچھ قیدیوں کو رہا کیا گیا، لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے''

ایران کے سرکاری میڈیا نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہزاروں قیدیوں کو معاف کر دیا ہے جن میں سے متعدد حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔

تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ بہت سی اہم شخصیات جیلوں میں ہیں اور مزید کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

عبد الحمید نے ایران میں پاسداران انقلاب کے کردار پر تنقید کی اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ملک کی باگ ڈور فوج کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''بہت سے جنرل ایسے ہیں جو سیاسی عہدوں پر ہیں۔ ماہرین اور اہل سیاست دانوں کو ملک چلانا چاہیے۔‘‘

16 ستمبر کو پولیس کی حراست میں 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت سے ایران میں ملک گیر مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے عبدالحمید حکومت پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

نماز جمعہ کے بعد، زاہدان میں مظاہرین ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے، اور خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی متعدد ویڈیوز میں مظاہرین کو "سیاسی قیدیوں کو رہا کرو" اور "خمینی کو موت" کے نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ملک میں ان دنوں مظاہروں میں شدت آئی ہے کیونکہ ایران ہفتے کے روز 1979 کے اسلامی انقلاب کی 44 ویں سالگرہ کے موقع پر تیاری کر رہا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے باوجود سیستان بلوچستان میں ستمبر کے آخر سے نماز جمعہ کے بعد ہفتہ وار احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اوسلو میں قائم گروپ ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ایران بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں سیستان بلوچستان میں ہوئی ہیں۔

یہ صوبہ ایران کے غریب ترین علاقوں میں سے ہے اور زیادہ تر آبادی بلوچ سنی ہے، جو کہ شیعہ اکثریتی ایران میں ایک اقلیت ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ انہیں کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں