سعودی عرب اور عراق کے درمیان چار دہائیوں بعد دفاعی پروٹوکول پردستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اور عراق کے درمیان طویل عرصے بعد اپنی نوعیت کے پہلے دفاعی اور سکیورٹی معاہدے کے لیے ایک یاداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔

عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی این اے‘ کے مطابق اتوار کو سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود اور ان کے عراقی ہم منصب عبدالامیر الشمری نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک سکیورٹی پروٹوکول پر دستخط کیے۔ یہ سنہ1983ء کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے جب دونوں ملکوں نے ایک سکیورٹی تعاون کی یاداشت پردستخط کیے ہیں۔

"آئی این اے" کی طرف سے شائع کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق "دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے ایک سکیورٹی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جو تقریباً چار دہائیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا موقع "ہے۔ یاداشت پر دستخط سے چند گھنٹے قبل عراقی وزیرداخلہ سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے تھے۔

بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ "اس یادداشت میں سکیورٹی تعاون کی مختلف شکلیں، وژن کا تبادلہ اور عراق اور سعودی عرب کے لیے مزید سکیورٹی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ سکیورٹی کام کو فعال کرنا شامل ہے۔"

سعودی وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ بغداد حکام کے ساتھ ان کی ملاقات میں سلامتی سے متعلق تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان مشترکہ ورکنگ کے تسلسل کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

ادھر سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق وزیر داخلہ نے عراقی وزیرداخلہ سے ملاقات کے دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان سکیورٹی تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

عراقی وزیر کا یہ دورہ فروری کے شروع میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے سرکاری دورے کے چند ماہ بعد ہوا ہے، جس کے دوران انہوں نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر بات چیت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں