نابلس واقعے کے بعد فلسطین کی چاررکنی سکیورٹی اجلاس سے علاحدگی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک فوجی آپریشن میں 11 فلسطینیوں کے بہیمانہ قتل کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے امریکا، اسرائیل، اردن اور مصر کے ساتھ طے شدہ سکیورٹی اجلاس سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی ہے۔

تین امریکی، اسرائیلی اور فلسطینی عہدے داروں نے "ایکسیس" نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ اتوار کو ہونے والی سکیورٹی سمٹ کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمت کو باضابطہ شکل دینا ہے.۔ اس مفاہمت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مذمتی قرارداد پر ووٹنگ ملتوی کر دی گئی تھی۔ قبل ازیں سلامتی کونسل میں پیش کرنے کے لیے تیار کردہ مجوزہ قرارداد کے متن مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مذمت کامطالبہ کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے رمضان سے قبل مغربی کنارے کی صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سربراہی اجلاس کے لیے زور دیا ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی نے حال ہی میں ہونے والی خفیہ بات چیت کے ایک حصے کے طور پر فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری حسین الشیخ کے ساتھ سربراہی اجلاس کا اہتمام کرنے کے لیے کام کیا تھا۔

اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے مطابق ان مفاہمتوں میں فلسطینی شہروں میں فوجی چھاپوں کو کم کرنے کا اسرائیل کا عزم بھی شامل تھا۔

حکام نے ’ایکسیس‘ کو بتایا کہ فلسطینیوں کو اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا اور اسرائیل سے یقین دہانیوں اور ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ ان میں اسرائیلی فوج کی دراندازی، مکانات مسمار کرنے اور یہودی بستیوں کی تعمیر جیسے یکطرفہ اقدامات کو روکنا شامل تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے امریکا کو مطلع کیا ہے کہ وہ "آنے والے مہینوں کے دوران مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام کے لیے لائسنس جاری نہیں کرے گا۔"

بائیڈن انتظامیہ فلسطینیوں پر سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔اس بارے میں ایک واقف ذریعہ نے براہ راست کہا کہ اگر فلسطینی شرکت نہیں کرتے ہیں توامکان ہے کہ سربراہی اجلاس منسوخ کر دیا جائے گا"۔

فلسطینی قیادت نے پیر کو ہونے والی ایک میٹنگ میں اسرائیل اور امریکا کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے کی منظوری دی تاکہ آئندہ ماہ رمضان میں کسی بڑی کشیدگی سے بچا جا سکے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق صدر محمود عباس کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس نے ایک بیان میں "اپنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ ،قومی اصولوں کی پاسداری اور یکطرفہ اقدامات کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا"۔

فلسطین نیوز کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں "4 جون 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو کی زمینوں پر اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے کے لیے ایک سیاسی افق کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔

امریکی تشویش

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جمعرات کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔تازہ کشیدگی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں 11 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد دیکھی گئی ہے۔

سیاق و سباق میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بدھ کے روز اسرائیل اور مغربی کنارے میں تشدد کی لہر میں اضافے امریکا کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے شروع کیے گئے چھاپے امن کی بحالی کی کوششوں کو ناکام بنا دیں گے۔

پریس کانفرنس میں پرائس نے مزید کہا کہ واشنگٹن "اسرائیل کے سکیورٹی خدشات" کو سمجھتا ہے لیکن وہ فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بارے میں انتہائی فکر مند ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں