سعودی عرب میں گھناؤنے قتل کیس کے ملزم کی اپیل پرکیس کی دوبارہ سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں ایک وحشیانہ قتل کے مقدمے کے حوالے سے جدہ کی فوج داری عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا کو ملزم کی طرف سے چیلنج کردیا گیا ہے۔ قتل کیس کے ملزم بندر القرھدی کے وکیل عبدالعزیز القلیصی نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل نے’قتل عمد‘ کے الزام سےانکار کرتے ہوئے کیس کی دوبارہ سماعت کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم کی طرف سے اردہ قتل کے تحت مقتول کو جان سے مارنے کی تردید کی ہے جس کے بعد کل منگل سے کیس کی دوبارہ سماعت کی جائے گی۔

گذشتہ ہفتے جدہ کی فوجداری عدالت کی طرف سے القرھدی قتل عمد کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی تاہم ملزم کی طرف سےعدالتی فیصلے کی دوبارہ اپیل کی درخواست کی ہے۔

ملزم نے جدہ میں فوجداری عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا پر اعتراض کیا۔ گذشتہ بدھ کو ایک گرما گرم سماعت مدعا علیہ کو قتل کا مجرم اور قصور وار قرار دیتے ہوئے اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے قتل ی واردا کو گھناؤنا جرم قرار دیا تھا۔

ملزم نے کہا کہ اس نے مقتول کو قصداً قتل نہیں کیا اور اس کا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس نے مزید کہا کہ مملکت کا قانون کسی بھی ملزم کو عدالتی فیصلوں کو قبول یا رد کرنے کا حق دیتا ہے۔

اگرعدالت اپنے سنائے گئے فیصلے کو برقرار رکھتی ہے توگذشتہ دسمبر میں پیش آنے والے اس گھناؤنے واقعے کا ملزم اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔

پچھلے سال دسمبر میں ملزم نے اپنے دوست کی گاڑی کو آگ لگا دی تھی جب اس کا دوست گاڑی کی اندرموجود تھا۔ آگ میں جھلسنے والے اپنے دوست کی مدد کرنے کے بجائے اسے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا جس کے بعد اس کے خلاف قتل کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔ قتل کا یہ وحشیانہ اقدام عموما فلموں میں دیکھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے پورے ملک میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ مجرمانہ واردات کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مقتول کے لواحقین کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں