اسرائیل میں انتشار خطرناک اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے: گیلنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں عدالتی نظام میں ترمیم کے منصوبے سے پیدا ہونے والے بحران کے درمیان برطرف وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ملک کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے خبردار کردیا۔

القدس میں کنیسٹ ہیڈ کوارٹرز میں خارجہ امور اور سلامتی کمیٹی کے سامنے ایک بند اجلاس میں آج پیر کو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی معاشرے میں گہری دراڑ ملک کے دشمنوں کو ملک کی سلامتی اور فوج کے خلاف کارروائی کرنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاھو نے اتوار کو گیلنٹ کو وزارت دفاع کے عہدہ سے برطرف کردیا تھا۔ اس اقدام پر ملک بھر میں غم و غصہ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گیلنٹ نے مزید کہا کہ اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

اسرائیل میں بڑے مظاہروں کے باوجود کنیسٹ آئینی کمیٹی نے دوسری اور تیسری ریڈنگ میں عدالتی ترامیم کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔ ان ترامیم کو شاید آج توثیق کے لیے پارلیمنٹ کی میز پر پیش کیا جائے گا۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عدالتی نظام میں اصلاحات کے منصوبے کب قانون سازی کے عمل کو فوری طور پر روک دے۔

انہوں نے اس سے بھی خبردار کیا کہ ملک کی سلامتی اور معیشت کو خطرہ لاحق ہے۔ ٹریڈ یونینوں کے سربراہ نے بھی اسرائیل میں عام ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ ڈاکٹرز سنڈیکیٹ نے بھی اس منصوبے کی تقدیر واضح ہونے تک جامع ہڑتال کا کہ دیا ہے۔

احتجاج کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ اس قانون سازی کو نہ صرف معطل کریں گے بلکہ اسے ختم کر دیں گے۔

افراتفری کے سامنے ہتھیارنہ ڈالے جائے: بن گویر

دوسری طرف انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے قانون کی منظوری کا مطالبہ کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ قانونی ترمیم کے قانون کو واپس لینا افراتفری کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے قانونی کی منظوری نہ ہونے پر حکومت کو تحلیل کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب اتوار کی شام تل ابیب میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں