مسجد اقصیٰ میں مسلسل کشیدگی، اسرائیل نے مراکشی دروازہ بند کردیا

قابض فوج کا اریحا میں عقبہ جبر کیمپ پر چھاپہ، فائرنگ سے بچہ شہید متعدد فلسطینی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی علاقوں میں گذشتہ چند دنوں سے جاری کشیدگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ پیر کی صبح سے 1500 سے زیادہ آباد کاروں نے 23 گروپوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔

دریں اثناء العربیہ/الحدث کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والے مغربی گیٹ [مراکشی گیٹ] کو بند کر دیا۔

اریحا کے قریب کیمپ پر اسرائیلی فوج کا چھاپہ

اسرائیلی قابض فوج نے مغربی کنارے میں اریحا شہر کے قریب عقبہ جبر کیمپ پر بھی دھاوا بول دیا، متعدد مکانات کا محاصرہ کیا اور کیمپ کے اندر فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ دھاوا بولنے کے بعد کیمپ کے داخلی راستے بھی بند کر دیے گئے۔

فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ عقبہ جبر کیمپ پر اسرائیلی فوج نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران پندرہ سالہ بچے محمد فائز بلھان کو سر اور پیٹ میں گولیاں مار کر شہید کردیا جب کہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج کے لیے اریحا کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

نمازیوں پر حملے اور میزائل داغے

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملہ کر کے نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ جب کہ اس کشیدگی کے جلو میں غزہ اور لبنان سے اسرائیل پر راکٹ داغے گئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ بدھ کو اعلان کیا کہ غزہ سے اسرائیل کی طرف 9 راکٹ داغے گئے جنوبی اسرائیل میں راکٹ حملوں کے خطرے کے پیش نظرخطرے کے سائرن بجائے گئے۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں درجنوں نمازیوں پر حملہ کیا جسے اس نے فسادات کا ردعمل قرار دیا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اسے مسجد کے احاطے میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اس نے بتایا کہ مسجد میں نقاب پوش افاد موجود ہیں جو پولیس پر سنگ باری کرتے ہیں۔ بعد ازاں قابض اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر ساڑھے تین سو نمازیوں کو گرفتار کرلیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں