سعودی عرب: کرپشن کے 17 کیسزکا پتا چلانے کے بعد ان کی فوج داری تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب میں شعبہ انسداد بدعنوانی کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ اینٹی اتھارٹی نے گذشتہ عرصے کے دوران کرپشن کے متعدد فوجداری مقدمات کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف باقاعدہ کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔

کرپشن کیسز درج ذیل ہیں

پہلا کیس

انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت کے تعاون سےایک رہائشی کو گرفتار کیا گیا جو 66 لاکھ ریال کےعوض وزارت سے متعلقہ خدمات کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس رقم کے عوض اس نے غیر ملکی کارکنوں کے پیشوں میں ترمیم کرنا اور حتمی خارجی ویزا منسوخ کرنا تھا۔

یہ کام غیر قانونی طریقے سے وزارت کے سسٹم میں لاگ ان کرکے اس کے ایک ملازم کو دور سے کام کرنے کے لیے دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کرنا تھا۔ اس ملازم کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ملازم کو لین دین کی تکمیل کی مدت کے دوران ایک فوجداری مقدمہ زیر التواء کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

اس ملازم نےاپنا موبائل فون جس سے سسٹم میں لاگ ان کرتے وقت تصدیقی پیغامات موصول ہوتے تھے وہ وزارت میں اپنے ایک ساتھی کے ذریعے رہائشی کے حوالے کر دیا۔ اس نے کل 5663 آپریشنز کیے جس کے نتیجے میں ان کارروائیوں کی فیسیں جن کی مالیت 75,751,371 ریال تھی کی ادائی نہیں ہوسکی۔

تحقیقات کے نتائج اور تلاش اور تفتیش کے طریقہ کار کے ذریعے3 شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ لین دین کی وصولی میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے کو آٹھ لاکھ ریال کی رقم کی پیش کشکی گئی تھی۔

دوسرا کیس

دوسرے کیس میں یونیورسٹی میں ایک ملازم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اس نے یونیورسٹی میں طلباء اور طالبات کے لیے معاوضے کے شعبے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے دور میں 6,496,304 ریال رقم حاصل کی۔اس نے بنک اکاؤنٹس سے طلبا کے معاوضے کی رقم اپنی بیوی اور دو بھائیوں کو منتقل کی تھی۔

تیسرا کیس

عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے بینک چیکوں کو جعلی بنا کر انتظامی عدالت کے بینک اکاؤنٹ سے 8,841,000 ریال کی رقم نکالنے پر ایک رہائشی کو گرفتار کیا گیا۔ دونوں غیرملکیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

چوتھا کیس

چوتھے کیس میں ذاتی وسائل کے ڈائریکٹر کی معطلی، ایک علاقے میں صحت کے امور میں مالیاتی امور کے ڈائریکٹر اور ایک رہائشی جو تجارتی ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتا ہے جعلی پراجیکٹس پیش کرنے اور انہیں تجارتی ادارے کو دینے، زمین پر ان پر عمل درآمد کیے بغیر 1,416,253ریال کی رقم حاصل کرنے کے الزام میں گرفتارکیا گیا۔

پانچواں کیس

ایک کاروباری شخصیت اور اس کے بھائی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جو ایک گورنری میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف ایجوکیشن میں کام کرتا ہے۔ اول الذکر نے متعدد تجارتی اداروں کے ساتھ معاہدوں میں اپنے بھائی کو اسی گورنریٹ میں جنرل ایڈمنسٹریشن آف ایجوکیشن کے لیے متعدد پروجیکٹس سے نوازا، اس کے بدلے میں ان پروجیکٹوں کی رقم کو زمین پر لاگو کیے بغیر مجموعی طور پر (1,685,000) ملین چھ لاکھ پچاسی ہزار ریال کی رقم وصول کی۔

چھٹا کیس

گورنری میں سے ایک میں انجینیرنگ کے منصوبوں کے لیے صحت کے امور کے ڈائریکٹر کے سابق معاون کی گرفتاری شامل ہے۔ اس نے اپنے دور میں اپنے ایک رشتہ دار کی ملکیت والے تجارتی ادارے کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 927,350 ریال مالیت کے غیرقانونی طور پر پروجیکٹ دیے۔

ساتواں کیس

مملکت کئ ایک خطہ میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ افیئرز کے میڈیکل سپلائی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے چار رہائشیوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ میڈیکل سپلائی گودام سے ادویات قبضے میں لے کر فروخت کرنے میں ملوث پایے گئے تئے اور انہوں نے 306,461 تین لاکھ چھ ہزار چار سو اکسٹھ ریال کی ادویات فروخت کی تھیں۔

آٹھواں کیس

ایک گورنری میں محکمہ تعلیم میں کام کرنے والے دو ملازمین کو معطل کیا گیا۔ ان پر محکمہ تعلیم کے بینک اکاؤنٹ سے (57,073) ستاون ہزار 73 ریال کی رقم ضبط کر کے اسے ان کے بینک اکاؤنٹس میں غلط ادائیگی کی اسناد کے ساتھ منتقل کرنے کاالزام عاید کیا جاتا ہے۔

نواں کیس

زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے تعاون سے ایک رہائشی کو ہوائی اڈے کے ذریعے مملکت سے (8) سونے کی سلاخوں کو اسمگل کرنے کی کوشش کرنے اور کسٹم افسر کو دو سونے کی سلاخیں پیش کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔

دسواں کیس

وزارت داخلہ کے تعاون سے ایک رہائشی اس وقت پکڑا گیا جب اسے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ کے نظام میں ایک رہائشی کے خلاف جرمانے کی منسوخی کے بدلے 30,000 تیس ہزار ریال کی رقم ملی۔ تحقیقات کے ذریعے ثابت ہوا کہ ایک ریجن کے پاسپورٹ پر کام کرنے والے ایک نان کمیشنڈ افسر کو غیر قانونی طریقے سے جرمانے کی منسوخی اور اس کے لیے رقم حاصل کرنے پر "معطل" کر دیا گیا تھا۔

گیارہواں کیس

سعودی عرب کی ایک گورنری میں سے ایک کی میونسپلٹی میں کام کرنے والے ملازم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جب اسے تجارتی ادارے کے خلاف خلاف ورزی جاری نہ کرنے کے بدلے 13,000 تیرہ ہزار ریال کی رقم ملی۔

بارہواں کیس

گورنری میں سے ایک کے سیکرٹریٹ کے ذریعہ منظور شدہ انجینیرنگ دفاتر میں کام کرنے والے رہائشی کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب اسے 15,000 میں سے (5,000) پانچ ہزار ریال کی رقم موصول ہوئی۔ یہ رشوت ایک شہری کے تجارتی سرگرمی کے لائسنس کی معطلی ختم کرنے کے عوض دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں