فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نےغزہ میں فوری جنگ بندی کا امکان مسترد کردیا،فضائی حملے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل نے ہفتے کے روزغزہ میں فوری جنگ بندی کے امکان کومسترد کردیا ہے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ راکٹ داغنا بندکردیں جبکہ اس کے لڑاکا طیاروں نے غزہ کی پٹی پرحملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر تزاچی ہنگبی نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے قریب ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم جنگ بندی پربات چیت نہیں کررہے ہیں۔اس وقت اسرائیل کی اوّلین ترجیح عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانا ہے‘‘۔

دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِاسلامی نے لڑائی کے پانچویں روزمیں داخل ہونے کے بعد راکٹ حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’مزاحمت نے خود کومہینوں کے تصادم کے لیے تیارکیا ہے‘‘۔غزہ سے ہفتے کو علی الصباح عسکریت پسندوں نے اسرائیلی علاقوں کی جانب راکٹ فائرکیے ہیں جس سے اسرائیل میں کام کرنے اورغزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزدور سمیت دوافراد چھرے لگنے سے بری طرح زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکاطیاروں نے غزہ میں جہادِاسلامی کے کمان مرکزاور راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایا ہے۔بمباری کی زد میں آنے والے علاقوں میں زورداردھماکوں کے ساتھ ہی دھویں کے بادل چھا گئے۔

غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیرالبلح میں اسرائیلی بمباری سے ایک عمارت منہدم ہوگئی اوراس کے آس پاس کے مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے لوگوں کو نکال کرمنتقل کیا جارہا تھا۔

اس عمارت پرفضائی حملے میں نزدیک واقع الاقصیٰ شہداءاسپتال کو بھی نقصان پہنچا ہے۔اسپتال کے ڈائریکٹرعیادابوظہر نے بتایا کہ فضائی حملے کے نتیجے متعدد نرسیں اور مریض زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شہری ہلاکتوں اور گھروں کو پہنچنے والے نقصان کو محدود کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔اس نے جہادِاسلامی پر الزام عایدکیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر رہائشی علاقوں میں اپنے کمانڈمرکزقائم کررہی ہے۔

بین الاقوامی مداخلت کی اپیل

دریں اثناء فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کوپھیلنے سے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کاکہنا ہے کہ مغربی کنارے میں واقع شمالی شہرنابلس کے مضافات میں اسرائیلی حملے میں دو فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔اسی علاقے فضائی حملے کے چند گھنٹے کے بعد اسرائیلی پولیس افسروں نے ایک فلسطینی شخص کوگولی مارکرشہید کردیا ہے۔اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ہاتھ میں چاقو تھا اوروہ پولیس افسروں کی جانب آرہا تھا۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں چار خواتین اورچھے بچے بھی شہید ہوئے ہیں۔اسرائیل میں تل ابیب کے قریب ایک اپارٹمنٹ کو غزہ سے داغے گئے ایک راکٹ سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی۔

مصرتشدد کے اس تازہ سلسلے کو روکنے کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کررہا ہے۔اس میں اب تک 33 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اورایک اسرائیلی عورت ماری گئی ہے۔جنگ بندی مذاکرات سے آگاہ ایک فلسطینی عہدہ دار ے انھیں 'پیچیدہ' اور 'مشکل' قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ قاہرہ اپنی ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھارہا ہے۔

اسرائیلی فوج کے غزہ میں فضائی حملوں میں گذشتہ منگل سے اب تک جہادِاسلامی کے چھے سرکردہ کمانڈرہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوج نے پانچ روز قبل ایران کےحمایت یافتہ گروپ کے خلاف یہ تازہ مہم شروع کی تھی۔اسرائیل اس فلسطینی گروپ کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

اسرائیل کے فوجی حکام کاکہنا ہے کہ انھیں اس بات کا کوئی اشارہ نظرنہیں آیا کہ غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والی تنظیم حماس نے خودمیزائل داغے ہیں اور حملوں میں اب تک صرف جہادِاسلامی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔حماس کے بعد غزہ میں سب سے بڑے اس مسلح گروپ نے اب تک اسرائیلی علاقوں کی جانب ایک ہزار سے زیادہ راکٹ داغے ہیں۔ان میں سے کچھ اسرائیل کے دوردرازعلاقوں میں گرے ہیں۔

ہنگبی کا کہنا ہے کہ اس کے ہتھیاروں کی تعداد چھے ہزارہے لیکن خودجہادِاسلامی نے اپنے ہتھیاروں کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی لیکن وہ اپنے باقی ماندہ پانچ ہزارمیزائلوں اور راکٹوں سے کئی روز تک اسرائیلی علاقوں کی جانب حملوں کوجاری رکھ سکتی ہے۔اگرحماس بھی لڑائی میں شامل ہو جاتی ہے تو جنگ کا دورانیہ ممکنہ طورپرتبدیل ہوکررہ جائے گا۔

حماس کی طرح جہادِاسلامی گروپ بھی اسرائیل کے ساتھ بقائے باہمی کا مخالف اور اس کی تباہی کا درس دیتا ہے۔اسرائیل کی مذہبی قوم پرست حکومت کے اعلیٰ وزراء نے 1967 کی مشرق اوسط کی جنگ میں اسرائیل کے زیرقبضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی جانب سے ریاست کے قیام کےمطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں