اردن کی سڑکیں خون سے رنگین، دو دنوں میں ٹریفک حادثات کے 100 افراد ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اُردن میں گذشتہ دو روز میں سڑکوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات کے نتیجے میں کم سے کم 100 افراد ہلاک یا زخمی ہو ئے ہیں۔ دوسری طرف شہری ٹریفک حادثات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کی طرف سے ٹریفک قوانین سخت کرنے اور دوران ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر جرمانہ بڑھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اردن میں ٹریفک کے بڑھتےحادثات کے اسباب پربھی بات کررہے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران فون کا استعمال حادثات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ حد سے زیادہ رفتار اور موبائل فون کا استعمال زیادہ تر حادثات میں سب سے نمایاں عنصر ہے جبکہ کئی وجووہات بھی ہیں۔

اردن کے دارالحکومت عمان میں روزانہ 160,000 کاریں صبح اور شام کے اوقات میں نو علاقوں سےداخل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں 10 لاکھ کاریں موجود ہیں۔ پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ میں سینٹرل ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے مطابق روزانہ 6 افرادعمان کی سڑکوں پر سفر کرتے ہیں۔ دوسری طرف کاروں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ عمان کی سڑکوں پر ہرسال 80 ہزار کاروں کا اضافہ ہوتا ہے۔ دارالحکومت میں 18 لاکھ ڈرائیور گاڑیاں چلاتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں اردنی حکام کے لیے ٹریفک حادثات ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، کیونکہ ان کی وجہ سے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کئی ہولناک ٹریفک حادثات رونما ہوئے ہیں، جن میں سے ایک بحیرہ مردار کے قریب لوہے سے لدے ٹرالر کا حادثہ ہے جو 14 گاڑیوں سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں 12 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جب کہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ سنہ 2016ء کے بعد ٹریفک سے متعلق قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی تاہم حالیہ عرصے کے دوران ٹریفک کے بڑھتے حادثات کی وجہ سے ٹریفک قوانین میں ترمیم کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اردن میں اگرچہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال ممنوع ہے مگراس کی خلاف ورزی کا جرمانہ پوری دنیا میں سب سے کم ہے۔

عوامی حلقوں کی طرف سے سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرنے، گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے اور ان کی حفاظت کی نگرانی کے ساتھ ساتھ خلاف ورزی کرنے والوں اور حادثات کے ذمہ داروں کے لیے کنٹرول اور جرمانے کو سخت کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

روڈ ایکسیڈنٹ کی روک تھام کے لیے اردن کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران ٹیکسٹ میسج بھیجنے یا سوشل میڈیا براؤز کرنے والے ڈرائیوروں کا رد عمل ان ڈرائیوروں کے مقابلے میں سست ہوتا ہے جو الکحل کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ سڑک کے حادثات میں حصہ لینے کا امکان اس وقت چار گنا بڑھ جاتا ہے جب گاڑی چلاتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون اور ٹیکسٹ میسجز بھیجنے کے دوران یہ خطرہ 32 گنا بڑھ جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں