ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف مظاہروں سے منسلک 3 افراد کو پھانسی دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں عدلیہ نے کہا ہے کہ حکام نے جمعے کے روز ان 3 افراد کو سزائے موت دے دی جنہیں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف تشدد کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔

گذشتہ برس ستمبر کے وسط میں اخلاقی پولیس کی حراست میں جاں بحق ہونے والی مہسا امینی کی موت کے بعد ملک بھر میں کئی ماہ تک احتجاج کیا گیا تھا۔ ان تین افراد کو انہیں مظاہروں کے دوران فورسز کے خلاف تشدد کے ارتکاب کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھا۔

عدلیہ کی نیوز ویب سائٹ ‘‘میزان آن لائن’’ نے بتایا کہ ماجد کاظمی، صالح میر

ہاشمی اور سعید یغوبی کو مرکزی شہر اصفہان میں ایک مظاہرے کے دوران بندوق کھینچنے کے جرم میں "محاربہ " یا "خدا کے خلاف جنگ" کا مجرم قرار دیا گیا تھا ۔ ان کی کارروائی کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کے تین ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔

ماجد کاظمی، صالح میر ہاشمی اور سعید یعقوبی کو مرکزی شہر اصفہان میں ایک مظاہرے کے دوران بندوق تاننے کے لیے ''خدا کے خلاف جنگ'' کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ماجد کاظمی، صالح میر ہاشمی اور سعید یعقوبی کو مرکزی شہر اصفہان میں ایک مظاہرے کے دوران بندوق تاننے کے لیے ''خدا کے خلاف جنگ'' کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

مہسا امینی کو حجاب نہ کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مہسا کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو تہران نے عام طور پر غیر ملکیوں کی طرف سے اکسائے گئے "فسادات" کا نام دیا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے ہزاروں ایرانیوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران درجنوں سیکورٹی فورسز سمیت سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ کاظمی، میرہاشمی اور یغوبی کو نومبر میں گرفتار کیا گیا اور جنوری میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

"میزان آن لائن" کے مطابق ان تینوں پر قومی سلامتی میں خلل ڈالنے اور ملی بھگت سے داخلی سلامتی کے خلاف جرائم کی نیت سے غیر قانونی گروپوں کا رکن بننے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ "مقدمہ میں ثبوت، دستاویز اور ملزمان کے واضح بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تینوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں تین سیکورٹی فورسز کی شہادت ہوئی تھی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں